نئی ٹیکنالوجی کا کمال، اب آواز کی لہروں سے آگ بجھےگی

نئی ٹیکنالوجی کا کمال، اب آواز کی لہروں سے آگ بجھےگی

(ویب ڈیسک ) سُونک فائر ٹیک ایک انقلابی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہے جو آگ بجھانے کے لیے پانی یا کیمیکلز کے بجائے آواز کی لہروں کا استعمال کرتی ہے۔

سُونک فائر ٹیک کمپنی کے شریک بانی جیوف برودر، جو ناسا میں تھرمل انرجی کنورژن پر تحقیق کر چکے ہیں، کا مقصد آگ سے تحفظ کے لیے ایک نیا اور مؤثر متبادل فراہم کرنا ہے۔

  پانی ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتا اور اس سے نقصان بھی ہو سکتا ہے، جبکہ کیمیکلز انسانی صحت اور ماحول کے لیے مضر ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر آگ کو آواز سے بجھایا جا سکے تو؟

سُونک فائر ٹیک نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی پیٹنٹ کروائی ہے جو کم فریکوئنسی والی آواز کی لہروں ( انفراساؤنڈ) کے ذریعے آگ کو بھڑکانے والے کیمیائی عمل کو متاثر کرتی ہے۔ آگ کے لیے حرارت، ایندھن اور آکسیجن ضروری ہوتے ہیں، اور ان میں سے کسی ایک عنصر کو ختم کرنے سے آگ بجھ سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انفراساؤنڈ لہروں کے ذریعے آکسیجن کے مالیکیولز کو ایندھن سے دور دھکیل دیتی ہے، جس سے آگ کو زندہ رہنے کے لیے ضروری آکسیجن نہیں ملتی۔

جیوف برودر کے مطابق، “یہ دراصل آکسیجن کو اتنی تیزی سے حرکت دیتی ہے کہ ایندھن اسے استعمال نہیں کر پاتا، اور یوں کیمیائی عمل رک جاتا ہے۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ آواز کے ذریعے آگ بجھانے کا تصور نیا نہیں۔

 سائنٹیفک امریکن کے مطابق، آواز کا آگ پر اثر طویل عرصے سے معلوم ہے۔ امریکی ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (DARPA) نے 2000 کی دہائی میں اس پر تحقیق کی، جبکہ ماہرین کئی دہائیوں سے اس پر تجربات کر رہے ہیں۔

ووسٹر پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ کے ماہر البرٹ سیمیونی کے مطابق، “ آگ پر آواز کے اثرات کو اچھی طرح سمجھا جا چکا ہے، لیکن اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر مؤثر بنانا ایک چیلنج رہا ہے کیونکہ اس سے نقصان دہ آوازیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔”

سُونک فائر ٹیک نے اس مسئلے کو انفراساؤنڈ کے استعمال سے حل کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی 20 ہرٹز یا اس سے کم فریکوئنسی کی آواز پیدا کرتی ہے جو انسانی کانوں کو سنائی نہیں دیتی، لیکن آگ کو بجھانے میں مؤثر ہوتی ہے کیونکہ یہ زیادہ فاصلے تک سفر کر سکتی ہے۔

سان برنارڈینو کاؤنٹی فائر ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں اس کمپنی کے ایک پہننے کے قابل فائر فائٹنگ ڈیوائس کا تجربہ کیا۔ کمپنی گھریلو استعمال کے لیے بھی ایسے حل فراہم کرتی ہے جو گھروں میں آسانی سے نصب کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سینسرز کے ذریعے خودکار طور پر فعال ہوتے ہیں اور آگ کو بغیر کسی نقصان یا پانی کے پھیلاؤ کے بجھا سکتے ہیں۔

کمپنی کے نمائندے کے مطابق، “ پانی کے سپرنکلر سسٹمز چکنائی والی آگ کے لیے مؤثر نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات آگ کو مزید پھیلا دیتے ہیں، جبکہ ہماری ٹیکنالوجی نے نہ صرف آگ کو دبانے بلکہ اس کے بھڑکنے کو روکنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔”

تاہم، فی الحال یہ ٹیکنالوجی صرف چھوٹی آگ کے لیے مؤثر ہے، اس لیے بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ جیسے جنگلاتی آگ کو بجھانے کے لیے اس کا استعمال ابھی ممکن نہیں۔

Watch Live Public News