ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے اور اس وقت تک گرفتاری سے روکنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے درخواست پر سماعت کے بعد ضمانت منظور کی۔ مسٹر پتلو وہیل چیئر پر اپنے وکیل قاسم عباسی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل سیالکوٹ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 2 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ موترہ میں ٹک ٹاکر سمیت 40 سے زائد نامزد اور نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا، جبکہ پولیس نے 6 افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔
گرفتاری سے بچنے کے لیے مسٹر پتلو نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔
گزشتہ روز جاری اپنے ویڈیو بیان میں مسٹر پتلو نے واقعے میں اپنی غلطی سے انکار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب عوام کے لیے منعقد کی گئی تھی، جس میں 20 غریب بچیوں کی شادیاں کروانے اور راشن و موٹر سائیکلیں تقسیم کرنے کا منصوبہ تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریب کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کیا گیا تھا اور ایونٹ سے 10 روز قبل ویڈیو پیغام کے ذریعے لوگوں کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
مسٹر پتلو کے مطابق تقریب سے ایک روز قبل گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ان کی کمر کی ڈسک متاثر ہوئی، جس کے باعث انہیں اسپتال جانا پڑا اور وہ تقریب میں موجود نہیں تھے۔