بھارت پرامریکی ٹیرف برقرار، ٹرمپ کا مودی سرکار کو دوٹوک پیغام

بھارت پرامریکی ٹیرف برقرار، ٹرمپ کا مودی سرکار کو دوٹوک پیغام
کیپشن: بھارت پرامریکی ٹیرف برقرار، ٹرمپ کا مودی سرکار کو دوٹوک پیغام

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ اُن کی انتظامیہ کا بھارت پر عائد ٹیرف میں کمی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بھارت کی تجارتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ برسوں تک بھارت نے امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارت کی جس سے امریکی صنعت کاروں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات اچھے ضرور ہیں لیکن تجارتی میدان میں انصاف کی کمی رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے بھارت پر کبھی زیادہ ٹیرف نہیں لگائے، تاہم بھارت کی جانب سے امریکی مصنوعات پر دنیا کے بلند ترین محصولات عائد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سخت تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا رہا اور اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے موجودہ امریکی حکومت نے سخت اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشہور امریکی موٹرسائیکل ساز کمپنی ہارلے ڈیوڈسن بھارت میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں مشکلات سے دوچار رہی کیونکہ بھارت نے 200 فیصد ٹیرف عائد کیا ہوا تھا۔ اس پالیسی کے باعث کمپنی کو مجبورا بھارت میں پلانٹ لگانا پڑا تاکہ مقامی سطح پر پیداوار کرکے بلند ٹیرف سے بچا جا سکے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے آج امریکا دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مقام بن چکا ہے۔ ان کے بقول اس وقت چین، میکسیکو اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کی کار ساز کمپنیاں امریکا میں نئے پلانٹس قائم کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جب یہ کمپنیاں امریکا میں پیداوار شروع کریں گی تو وہ درآمدی ٹیرف سے مستثنیٰ ہوں گی، جس کے نتیجے میں امریکی مارکیٹ میں نہ صرف پیداواری صلاحیت بڑھے گی بلکہ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

یہ بھی یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ بھارت نے اپنے محصولات کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم ان کے مطابق یہ پیشکش بہت دیر سے کی گئی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کئی سال پہلے ایسا کرتا تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید بہتر ہو سکتے تھے، لیکن اب امریکا اپنی صنعت اور مارکیٹ کو ہر حال میں اولین ترجیح دے گا۔

Watch Live Public News