یاسین ملک کا بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار

یاسین ملک کا بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار
کیپشن: یاسین ملک کا بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار

ویب ڈیسک: بھارتی قید میں موجود کشمیری رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کردیا۔

یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا، جس میں ان کے 24 اگست کے تحریری بیانات کو بھی شہادت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ واقعے سے 11 روز قبل شدید زخمی ہونے کے باعث وہ قتل کی منصوبہ بندی یا ہدایات دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں اور عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب جرم تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔

یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ ان کے خلاف مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو مختلف ادوار میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی کے نام پیغام میں بھی جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی ہے، اب فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔

دوسری جانب سیاسی ماہرین نے یاسین ملک کے مقدمے کو سیاسی دباؤ سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ طویل قید کے باوجود کشمیری حریت پسند اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ماہرین نے اقوام متحدہ سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

Watch Live Public News