ویب ڈیسک: پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم خان سواتی کو اٹک جیل سے رہا کردیاگیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما و سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف 5 اکتوبر کو تھانہ ٹیکسلا میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا مقدمہ مبینہ طور پر ان کے متنازعہ بیانات اور سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اعظم سواتی کو گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں کئی ہفتوں تک قید میں رکھا گیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے جمعرات کے روز ان کی ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد انہیں آج اٹک جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
سینیٹر اعظم سواتی کے وکلاء کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ گرفتاری سیاسی انتقام کا حصہ ہے اور ان کے مؤکل نے آزادی اظہار رائے کے حق کے تحت بات کی ہے۔
اعظم خان سواتی کی عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع
اعظم خان سواتی کی سانحہ 9 مئی کے پانچ مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کے جج منظرعلی گل نے کی۔
اعظم سواتی کے وکیل چودھری عدنان کلار نے 5 مقدمات میں حاضری معافی کی درخواست دائر کردی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اعظم خان سواتی دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں، اعظم سواتی مانسہرہ میں زیر علاج ہیں، اعظم سواتی سفر نہیں کر سکتے حاضری معافی منظور کی جائے۔
عدالت نے اعظم خان سواتی کو حاضری کا آخری موقع دے دیا اور ریمارکس دیئے کہ چار پانچ دن کی تاریخ دے رہا ہوں آئندہ لازمی پیش کریں۔
عدالت نے اعظم خان سواتی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع کا حکم دے دیا۔
حافظ فرحت عباس کی عبوری ضمانت میں 15 فروری تک توسیع
پی ٹی آئی رہنما حافظ فرحت عباس کی سانحہ 9 مئی کے 4 مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے جج منظرعلی گل نے کی۔
عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں حافظ فرحت کو شامل تفتیش ہونے کا آخری موقع دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آج میں اس درخواست پر فیصلہ کروں گا۔
وکیل حافظ فرحت عباس نے کہا کہ کیس میں تیاری کا وقت دے دیں۔
جج منظر علی گل نے ریمارکس دیئے کہ جس میں ابھی تک ملزم شامل تفتیش نہیں ہوا اس پر مزید وقت نہیں دے سکتا۔
وکیل حافظ فرحت عباس نے کہا کہ ہم عدالت میں پیش ہوئے ہیں خود کو عدالت میں سرنڈر کر دیا،عدالت آج موقع دے آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کریں گے،پراسیکیوشن نے کہہ دیا ہے آج انکو موقع دے دیں ۔
بعد ازاں عدالت نے حافظ فرحت عباس کی 4 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 15 فروری تک توسیع کا حکم دے دیا۔