ویب ڈیسک: پاکستان میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے لیے بنائے گئے متنازع پیکا قانون کے تحت فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں دو مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیر کو اوکاڑہ پولیس نے واٹس ایپ پر ڈکیتی کی جھوٹی خبر دینے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا۔ جبکہ اتوار کو ایف آئی اے نے مظفر گڑھ میں ایک شخص کو گرفتار کیا جس نے مبینہ طور پر اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر توہین مذہب کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
ڈکیتی کی جھوٹی پوسٹ وائرل کرنے کے الزام میں پیر کو اوکاڑہ میں سوشل میڈیا پر پولیس نے ایک شخص کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ سب انسپکٹر کی مدعیت میں پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر واٹس ایپ گروپ پر جھوٹی خبر پھیلائی کہ ’10 سے 11 ملزمان ایک ہوٹل سے تین لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار، ملزمان میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق پولیس کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور اس حوالے سے مذکورہ ہوٹل نے بھی تصدیق کی۔
اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ ملتان نے سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب کی جھوٹی پوسٹ لگانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ کے ذریعے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے ’بھرے بازار میں گستاخی کی ہے‘ اور ان کے اس جھوٹے دعوے سے ’بدامنی پیدا ہوئی۔‘
پیکا ایکٹ کیا ہے؟
پیکا ترمیمی بل 2025 کے مطابق جو شخص آن لائن ' فیک نیوز' پھیلانے میں ملوث پایا گیا اسے تین سال قید یا 20 لاکھ تک جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
دی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (ترمیمی) بل 2025 میں سیکشن 26 (اے) کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت آن لائن ’جعلی خبروں‘ کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی، ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلاتا ہے، یا کسی دوسرے شخص کو بھیجتا ہے، جس سے معاشرے میں خوف یا بد امنی پھیل سکتی ہے، تو اسے تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔