ویب ڈیسک: کراچی اور لاہور کے درمیان فضائی سفر بسنت کے قریب آتے ہی نمایاں طور پر مہنگا اور مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ہوائی کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ریلوے سروسز پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ایئرلائنز نے محدود نشستوں اور زیادہ طلب کے باعث کراچی–لاہور روٹ پر ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور نجی فضائی کمپنیوں نے بسنت سے قبل بکنگ میں اضافے کے بعد کرایے بڑھا دیے ہیں۔
یک طرفہ ہوائی کرایہ 68 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور مزید مسافروں کے لاہور جانے کے باعث اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 5 فروری کی سرکاری چھٹی نے بھی طلب میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث کئی مسافروں کے پاس مہنگے ٹکٹ خریدنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ ایئرلائنز رش اور محدود گنجائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حد سے زیادہ کرایے وصول کر رہی ہیں، جس سے بہت سے خاندانوں کے لیے سفر ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے۔
پاکستان ریلوے بھی دباؤ کم کرنے میں ناکام رہی ہے، کیونکہ کراچی–لاہور روٹ پر ٹرینیں تقریباً مکمل گنجائش پر چل رہی ہیں۔ ٹکٹوں کی کمی کے باعث کئی مسافروں کو مہنگے ہوائی سفر کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔