ویب ڈیسک: مودی حکومت نے ایک بار پھر سکھ برادری کو نشانہ بناتے ہوئے معروف سکھ یوٹیوبر جسبیر سنگھ کو پاکستان سے مبینہ تعلقات کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ بھارتی میڈیا اور پولیس کے دعوؤں کے مطابق جسبیر سنگھ پر پاکستانی خفیہ نیٹ ورک کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی جی پی پنجاب گوراو یادو کا کہنا ہے کہ یوٹیوبر جسبیر سنگھ کا تعلق پاکستانی نیٹ ورک سے تھا،جسبیر سنگھ، جوتی ملہوترا اور شاکر عرف جٹ نندوا کے رابطے میں تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جسبیر سنگھ نے 2020، 2021 اور 2024 میں پاکستان کے دورے کیے،سکھ یوٹیوبر کے موبائل سے پاکستان سے جڑے نمبرز برآمد ہوئے،جان محل یوٹیوب چینل کے خالق جسبیر سنگھ پر خفیہ نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام،جسبیر سنگھ کا احسان الرحیم عرف دانش سے بھی رابطہ تھا۔
مودی سرکار سوشل میڈیا پر سکھ شناخت کے اظہار کو جاسوسی سے جوڑنے کی بھونڈی سازش کر رہی ہے،بھارتی حکومت نے سکھ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کارکنان کو نگرانی میں لے لیا۔سوشل میڈیا پر سکھ شناخت کے اظہار پر اکاؤنٹس بند، پوسٹس ڈیلیٹ کردی گئیں۔'سکھ فار جسٹس' کے حامیوں پر UAPA جیسے سخت قوانین کا اطلاق ہوگیا،خالصتان کا لفظ بولنے پر غداری کے مقدمات درج، اظہارِ رائے پر قدغن۔۔پنجاب میں عام سکھ شہریوں کو انٹیلیجنس واچ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔