ویب ڈیسک: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے پہلے امریکی فوجیوں کی شناخت جاری کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو چار اہلکاروں کے نام ظاہر کیے گئے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مزید ہلاکتوں کا خدشہ موجود ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے چار کا تعلق آئیوا سے وابستہ امریکی آرمی ریزرو یونٹ سے تھا، جو اتوار کے روز کویت کی پورٹ شعیبہ میں قائم ایک امریکی فوجی تنصیب پر ڈرون حملے میں مارے گئے۔
پینٹاگون کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی عمریں 20 سے 42 برس کے درمیان تھیں اور وہ ڈیس موئنز، آئیوا میں قائم 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ سے منسلک تھے، جو امریکی فوج کے عالمی لاجسٹک اور سپلائی آپریشن کا حصہ ہے۔
ہلاک اہلکاروں کی شناخت کیپٹن کوڈی اے خورک (35)، سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینس (42)، سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور (39) اور سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی (20) کے نام سے کی گئی ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ اہلکار مختلف ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے اور بیرونِ ملک تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔
79th Theater Sustainment Command کے سربراہ میجر جنرل ٹوڈ ارسکائن نے ایک بیان میں چاروں اہلکاروں کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
فوج کے مطابق کیپٹن خورک 2018 میں سعودی عرب، 2021 میں کیوبا کے گوانتانامو بے اور 2024 میں پولینڈ میں تعینات رہ چکے تھے۔ نکول امور 2019 میں کویت اور عراق میں خدمات انجام دے چکی تھیں، جبکہ نوح ٹیٹجینس 2009 اور 2019 میں دو مرتبہ کویت میں تعینات رہے۔ سارجنٹ ڈیکلن کوڈی نے 2023 میں آرمی ریزرو میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں بعد از مرگ ترقی دی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں مزید امریکی فوجیوں کی جانیں جا سکتی ہیں۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق ایران مشرقِ وسطیٰ میں اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار سے زیادہ ڈرون فائر کر چکا ہے۔
امریکی فوجیوں کو درپیش خطرات پر منگل کو قانون سازوں کو بند کمرہ بریفنگ دی گئی، جس میں وزیر دفاع، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین، سی آئی اے ڈائریکٹر اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے شرکت کی۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی کے مطابق بریفنگ میں خبردار کیا گیا کہ مزید ہلاکتوں کا امکان ہے اور ڈرون حملوں کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق کویت میں جس فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا وہ کنکریٹ کی حفاظتی دیواروں سے گھری ہوئی تھی، تاہم اس کی چھت زیادہ مضبوط نہیں تھی۔ دو حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ وہاں مؤثر فضائی دفاعی نظام موجود تھا یا نہیں، اور بظاہر ڈرون کے قریب آنے پر کوئی الارم بھی فعال نہیں ہوا۔