کس سیاسی خاندان نے کتنی چینی برآمدکی؟تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

کس سیاسی خاندان نے کتنی چینی برآمدکی؟تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش
کیپشن: کس سیاسی خاندان نے کتنی چینی برآمدکی؟تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

ویب ڈیسک: حکومت کی اجازت کے بعد مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کی 67 شوگر ملز نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کی جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر (11 ہزار 280 ارب روپے) بنتی ہے۔

ایکسپورٹ کے بعد ملک میں چینی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ دو ماہ قبل فی کلو چینی کی قیمت 140 روپے تھی جو اب 190 سے 200 روپے تک جا پہنچی ہے۔ 50 کلو کے تھیلے کی قیمت 6 ہزار 200 روپے سے بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے ہو گئی ہے۔

شوگر ملز مالکان اور ایکسپورٹ کی تفصیل
ایس ای سی پی کی دستاویزات اور پارلیمانی کمیٹیوں میں جمع کرائی گئی فہرستوں کے مطابق:

رمضان شوگر ملز (شریف فیملی): 16 ہزار 116 ٹن، مالیت 2.41 ارب روپے
العربیہ شوگر ملز (شریف فیملی): مالیت 1.20 ارب روپے
چوہدری شوگر ملز (عباس شریف کے بیٹے): مالیت 1.49 ارب روپے
ٹنڈوالہ یار شوگر ملز (عبدالغنی مجید): 6 ہزار 518 ٹن، مالیت 91.7 کروڑ روپے
اشرف شوگر ملز (ذکا اشرف): 11 ہزار 317 ٹن، مالیت 1.67 ارب روپے
رحیم یار خان شوگر ملز (مونس الٰہی، میاں عامر محمود): 21 ہزار 874 ٹن، مالیت 3.33 ارب روپے
جے ڈی ڈبلیو اور جے کے شوگر ملز (جہانگیر ترین): 99 ہزار ٹن، مالیت 15 ارب روپے
تاہم چوہدری شجاعت حسین اور سالک حسین کی پنجاب شوگر ملز نے اس عرصے میں ایکسپورٹ نہیں کی۔

حکومتی اقدامات
چینی کی قیمت میں اضافہ ہونے پر حکومت نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ فی کلو چینی 172 روپے میں فروخت کی جائے۔ زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ کئی دکانداروں نے مہنگائی کے باعث چینی رکھنا ہی بند کر دی ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چینی کی ایکسپائری مدت دو سال ہے اور اگر یہ چینی ایکسپورٹ نہ کی جاتی تو ضائع ہو جاتی۔ ان کے مطابق ایکسپورٹ کی گئی چینی کی معیاد اگست 2025 تک تھی۔

Watch Live Public News