ویب ڈیسک: روس نے پیٹرول کی برآمدات پر عائد پابندی کو مزید سخت کرتے ہوئے اسے تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں تک بھی بڑھا دیا ہے، جو 31 جولائی تک نافذ رہے گی۔
روسی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں اور اندرونِ ملک ایندھن کی طلب کے پیش نظر سپلائی کو مستحکم رکھنا ہے۔ اس سے قبل یہ پابندی صرف غیر پیداواری اداروں تک محدود تھی، تاہم اب پیٹرول تیار کرنے والی کمپنیوں پر بھی لاگو ہوگی۔
حکام نے واضح کیا کہ کچھ ممالک، جیسے منگولیا، کو بین الحکومتی معاہدوں کے تحت اس پابندی سے استثنا حاصل ہوگا۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور یوکرین کی جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر ڈرون حملوں نے بھی تیل کی رسد متاثر کی ہے، جس کے باعث برآمدی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔