ویب ڈیسک: ڈیفنس میں شہری پر تشدد کے ہائی پروفائل کیس میں نیا موڑ اُس وقت آیا جب متاثرہ نوجوان نے عدالت میں پیش ہو کر نامزد ملزم کو معاف کر دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے ملزمان سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کو پیش کیا۔
عدالت میں متاثرہ نوجوان سدھیر نے ملزم کی شناخت کرتے ہوئے بیان دیا کہ وہ وکیل کے کہنے پر عدالت میں حاضر ہوا ہے اور کسی دباؤ یا خطرے کے بغیر ملزم کو معاف کر رہا ہے۔ اس نے عدالت سے کہا کہ اب وہ کوئی مقدمہ نہیں چلانا چاہتا اور جو بھی فیصلہ ہوگا، اسے قبول ہوگا۔
دوسری جانب، سرکاری وکیل عرفانہ قادری نے ملزمان کی درخواستِ ضمانت کی مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر دھمکیاں دینے اور خاتون کی تذلیل جیسے سنگین الزامات درج ہیں، جو ناقابلِ ضمانت دفعات کے تحت آتے ہیں۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں کار اور موٹر سائیکل کے درمیان معمولی حادثے کے بعد کار سوار، مقامی کمپنی کے اعلیٰ افسر سلمان فاروقی نے موٹر سائیکل سوار نوجوان پر بہیمانہ تشدد کیا تھا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں متاثرہ نوجوان کی بہنیں ہاتھ جوڑ کر رحم کی اپیل کرتی دیکھی گئی تھیں، لیکن ملزم نے درگزر نہ کیا۔