ویب ڈیسک: چینی ماہر تعلیم اور یوٹیوبر پروفیسر جیانگ کی جانب سے 2024 میں کی گئی پیش گوئی ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اسے اس جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پروفیسر جیانگ کے مطابق موجودہ حالات اس پیش گوئی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ ایران نے خلیجی خطے میں امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے مقابلے کے لیے مضبوط دفاعی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کے بقول اس صورتحال کے باعث نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
جیانگ کی تین پیش گوئیاں
پروفیسر جیانگ نے 2024 میں تین بڑی پیش گوئیاں کی تھیں۔ پہلی یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکا کے صدر منتخب ہوں گے، دوسری یہ کہ امریکا ایران پر حملہ کرے گا، جبکہ تیسری پیش گوئی یہ تھی کہ امریکا اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
⚠️ BUCKLE UP: 2026 GEOPOLITICAL PREDICTIONS FROM A PROFESSOR WHO GOT TRUMP, IRAN, & UKRAINE RIGHT.
— Mark (@Mark4XX) January 8, 2026
Professor Jang uses game theory & history to forecast global shifts. His track record is uncanny. Here’s his alarming analysis for 2026.
THE GRAND GAME: US vs. CHINA
➡️ The core… pic.twitter.com/kNFH8aokhL
ان میں سے پہلی دو پیش گوئیاں پہلے ہی درست ثابت ہو چکی ہیں، جبکہ جیانگ اب بھی اپنی تیسری پیش گوئی پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی مضبوط دفاعی اور حکمت عملی کی تیاریوں کی بدولت اس تنازع میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔
ایران کی طویل مدتی تیاری
پروفیسر جیانگ کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی اور اسرائیلی فوجی طاقت کے مقابلے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی۔ ان کے مطابق ایرانی افواج نے مختلف فوجی مشقوں اور ماضی کے تنازعات کے دوران مخالف قوتوں کی صلاحیتوں اور حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے صرف براہِ راست فوجی مقابلے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ توانائی اور اقتصادی نظاموں کو بھی ممکنہ دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔
خلیجی ممالک اور توانائی کے نظام پر اثرات
پروفیسر جیانگ کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا ایک پہلو خلیجی ممالک کے پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی فراہمی کے مراکز متاثر ہوں تو کئی ممالک چند ہفتوں میں شدید قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس صورتحال کے باعث خلیجی ممالک کے مالیاتی نظام اور پیٹرول ڈالر سے جڑے اقتصادی ڈھانچے پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے، جو امریکی معیشت کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
امریکا کے لیے ممکنہ چیلنجز
پروفیسر جیانگ کے مطابق ایران کی حکمت عملی نے امریکا پر زمینی کارروائی کا دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم عوامی ردعمل اور سیاسی خدشات کے باعث واشنگٹن اس قدم سے ہچکچا رہا ہے۔
Professor Jiang predicts Israel is intentionally dragging the US into a losing war with Iran to destroy America.
— Furkan Gözükara (@FurkanGozukara) February 15, 2026
Zionists want the American empire to fall so Israel can rule. pic.twitter.com/APduCBp5xx
ان کے بقول ایران کی جانب سے ڈرون حملوں، توانائی اور پانی کے بنیادی نظاموں کو نشانہ بنانے اور خلیجی فوجی تنصیبات پر دباؤ ڈالنے جیسے اقدامات نے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کیا ہے۔
پروفیسر جیانگ کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے پیش نظر ممکن ہے کہ امریکا اپنی توقعات کے باوجود اس جنگ میں کامیاب نہ ہو سکے اور ایران دفاعی برتری حاصل کر لے۔