عدالت  نے صنم جاوید کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی 

عدالت  نے صنم جاوید کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی 

(ویب ڈیسک ) عدالت نے ملزمہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

8 فروری ریلی کیس میں پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کی گرفتاری کا معاملہ، عدالت نے پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے  ڈیوٹی جج عرفان حیدر نے  سماعت کی ، صنم جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے  دلائل دیئے ۔

وکیل نےکہا کہ   صنم جاوید سیاسی کارکن ہے اس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مقدمہ میں تمام دیگر دفعات قابل ضمانت ہیں، فروری میں مقدمہ درج ہوا  پولیس نے 80 دن بعد  دہشتگردی کی دفعات شامل کی، ملزم کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے ۔

تفتیشی افسر نے دلائل میں کہا کہ   صنم جاوید کیخلاف مقدمہ میں دہشتگردی کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔

بعد ازاں عدالت  کی جانب سے ملزمہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی  گئی۔ عدالت نے ملزمہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی ۔

عدالت نے 19 مئی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ۔

خیال رہے کہ   صنم جاوید کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا ۔

خیال رہے کہ صنم جاوید کو پی ٹی آئی ریلی کے دوران سڑک بلاک اور  ریاست مخالف نعرے کیس میں گرفتار کیا گیا ۔ صنم جاوید سمیت  دیگر کیخلاف راوں سال فروری میں مقدمہ درج ہوا ۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ   صنم جاوید سمیت دیگر کارکنان نے ایوان عدل کے سامنے ریلی نکالی اور سڑک بلاک کی۔ریلی میں شامل کارکنان نے پولیس سے مزاحمت بھی کی، صنم جاوید سمیت دیگر نے ریاست مخالف نعرے بھی لگائے۔

صنم جاوید  نو مئی کیسز کی سماعت کے بعد کوٹ لکھپت جیل کے باہر سے گرفتار ہوئی۔تھانہ اسلام پورہ میں صنم جاوید اور عالیہ حمزہ سمیت دیگر کیخلاف  مقدمہ  درج ہے۔

Watch Live Public News