(ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہالی ووڈ تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اس کو بچانا ایک قومی ضرورت بن چکی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ 'ٹروتھ سوشل' پر کہا"یہ دوسرے ممالک کی ملی بھگت ہے اور اسے لیے یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے، یہ صرف بزنس کا معاملہ نہیں بلکہ پیغام رسانی اور پروپیگنڈے کا بھی مسئلہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فلمیں دوبارہ امریکا میں بنیں"
ٹرمپ نے متعلقہ سرکاری اداروں، خاص طور پر امریکی محکمہ تجارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوراً اس ٹیکس کے نفاذ کا عمل شروع کریں۔
کیا یہ ٹیرف اسٹریمنگ فلموں پر بھی لگے گا؟
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ ٹیرف صرف سینما میں چلنے والی فلموں پر ہوگا یا آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز جیسے نیٹ فلکس، ڈزنی پلس، اور ایمیزون پرائم پر موجود فلموں پر بھی لاگو ہوگا۔ نہ ہی اس کی تفصیلات دی گئی ہیں کہ یہ ٹیرف فلم کے بجٹ پر لگے گا یا کمائی پر۔
خیال رہے کہ اس سال جنوری میں امریکی صدر ٹرمپ نے اداکار جون وائیٹ، سلویسٹر اسٹالون اور میل گبسن کو یہ ذمے داری دی تھی کہ وہ ہالی ووڈ کو دوبارہ "بڑا، بہتر اور مضبوط" بنائیں۔
گزشتہ کچھ سالوں سے امریکی فلم ساز کمپنیاں کینیڈا، برطانیہ، اور دیگر ممالک میں فلمیں بنا رہی ہیں، کیونکہ وہاں حکومتیں فلم سازی پر ٹیکس چھوٹ اور دیگر مالی فوائد دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے ادارے جیسے ڈزنی، نیٹ فلکس، اور یونیورسل پکچرز امریکا سے باہر شوٹنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔