ویب ڈیسک: معروف امریکی ریپر میکلمور کو فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگانے کے بعد برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے امریکی ٹور سے الگ کردیا گیا۔
ٹور منتظمین کے مطابق امریکا میں کنسرٹس کے لیے مقررہ اسٹیڈیمز اور مقامات کے مالکان نے میکلمور کو پرفارم کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا، جس کے بعد انہیں ٹور سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سے قبل اسرائیلی امریکن کونسل بھی میکلمور کے خلاف مہم چلا چکی ہے۔
ایڈ شیرن نے واضح کیا کہ میکلمور کو ٹور سے الگ کرنے کا فیصلہ ان کا ذاتی اقدام نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے منتظمین اور مختلف مقامات کے مالکان سے کئی روز تک بات چیت کرکے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم پروموشن کمپنی میسینا ٹورنگ گروپ نے بالآخر میکلمور کو ٹور سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایڈ شیرن نے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب ہونے والا جانی نقصان انسانی المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے میوزک پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ ان کے کنسرٹس میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد اور بچے شریک ہوتے ہیں۔ تاہم، شیرن نے میکلمور کے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کے عزم کو سراہا۔
دوسری جانب ٹور میں شامل بعض فنکاروں نے میکلمور کو الگ کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیا۔ لوکاس گراہم نے کہا کہ جنگ، شہریوں کی ہلاکت اور بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی آزادی ہونی چاہیے، جبکہ آسٹریلوی و امریکی ٹور کی معاون فنکار ایرن رو اور آئرش فوک بینڈ بیوگا نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔