(ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شیخ الحدیث، سابق ایم پی اے اور رکن مرکزی مجلس شوریٰ جے یو آئی مولانا ادریس کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،انہوں نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کی قیمت چکائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفید ریش عالم دین کی شہادت قرآن وسنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ ہے۔ علماء پاکستان کے بے لوث نظریاتی محافظ ہیں لیکن ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مولانا ادریس شہید نے ہمیشہ امن کی بات کی، افسوس کہ آج وہ خود بدامنی کا شکار ہوگئے۔ مولانا ادریس بلند پایہ عالم، نکتہ داں واعظ اور مدبر سیاستدان تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا ادریس شہید کی پوری زندگی دین کی اشاعت وخدمت میں گزاری، ان سے برسوں پر محیط اعتماد، شفقت اور دوستی کا دیرینہ تعلق تھا، سفاک ظالموں نے ہمیں مخلص دوست اور با وفا رہنما سے محروم کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دارالعلوم حقانیہ کے درودیوار اور ہزاروں طلباء سمیت جے یو آئی کا ہر کارکن غمزدہ ہے، اللہ کریم مولانا کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کی خدمات کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔
سربراہ جے یو آئی نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے، لاقانونیت اور دہشت گردی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔