پاکستان کے پاور سیکٹر کی مشکلات میں کمی نہ آ سکی 

پاکستان کے پاور سیکٹر کی مشکلات میں کمی نہ آ سکی 
کیپشن: پاکستان کے پاور سیکٹر کی مشکلات میں کمی نہ آ سکی 

ویب ڈیسک: پاکستان کے پاور سیکٹر کی مشکلات میں کمی نہ آ سکی۔ انسٹی ٹیوٹ آف انرجی اکنامک  اینڈ فنائننشل  اینالائسز نے رپورٹ جاری کر دی۔ 

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو کپیسٹی پے منٹس کی ادائیگیوں کے لیے 2.1 کھرب روپے درکار ہیں۔ پانچ آئی پی پیز کےساتھ معاہدوں کی منسوخی ناکافی قرار دی گئی ہے۔  

دو آئی پی پیز  لال پیر اور حب کو نے  معاہدوں کی منسوخی کے لیے خطیر رقم لی۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منسوخی سے  حکومت کو 20 ارب کی بچت ہوئی۔ 362 میگاواٹ کے لال پیر پاور پلانٹ کو 7 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔ لال پیرپاور پلانٹ کے معاہدے کی معیاد تین سال باقی تھی۔ 

1292 میگا واٹ کے حبکو پاور پلانٹ کو 19 اعشاریہ 56 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔ حبکو پاور پلانٹ کے  معاہدے کی معیاد میں دو سال باقی تھے۔ پاکستان دیگر 18 آئی پی پیز کے ساتھ ٹیک اینڈ پے کے معاہدے کرنے کا خواہاں ہے۔

نئے معاہدوں سے پاکستان کو کپیسٹی پے منٹس سے چھٹکارہ ملے گا۔ آئی پی پیز سے معاہدوں کی منسوخی کا عمل شفاف ہونا چائیے۔

Watch Live Public News