(ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد اسرائیل کے وزیر دفاع نے فوج کو تیار رہنے کے احکامات جاری کردیے ہیں ۔
غیر ملکی خب ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے جمعرات کے روز فوج کو تیار رہنے کے احکامات جاری کیے جس میں کہا گیا ہےکہ اسرائیلی فوج غزہ کے رہائشیوں کو رضا کارانہ طور پر علاقہ چھوڑنے کی منصوبہ بندی کے لیے تیار رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ احکامات امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد جاری کیے تاہم ٹرمپ کو اپنے اس اعلان پر عالمی برادری کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیر دفاع نے بیان میں کہا ہے کہ میں صدر ٹرمپ کے دلیرانہ منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، غزہ کے رہائشیوں کو آزادی سے ہجرت کی اجازت ہونی چاہیے جیسا کہ دنیا بھر میں قوانین ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کے فوجی آپریشن کی مخالفت کی، جیسے اسپین، آئرلینڈ، ناروے اور دیگر ممالک، جنہوں نے اسرائیل پر فوجی آپریشن کو لے کر جھوٹے الزامات عائد کیے لہٰذا اب انہیں قانونی طور پر غزہ کے رہائشیوں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ کے شہریوں کو بھیجنے کے لیے زمینی راستے سمیت جہاز اور سمندری راستے سے خصوصی انتظامات کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر کے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد کئی ممالک نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جس پر امریکی حکام کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی۔