(ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر قبضے کے بیان کی تشریح کرتے ہوئے۔۔۔ غزہ پر فلسطینیوں کو ہی دوبارہ آباد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
یادرہے ان کے غزہ پر امریکی قبضے کے منصوبے کوفلسطین سمیت دنیا بھر سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے
غزہ "جنگ کے اختتام پر اسرائیل امریکا کے حوالے کر دے گا"۔ جہاں فلسطینیوں کو "خطے میں نئے اور جدید گھروں کے ساتھ، پہلے سے زیادہ محفوظ اور زیادہ خوبصورت کمیونٹیز میں دوبارہ آباد کیا جا چکا ہو گا"۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ غزہ کا انتظام سنبھال لے۔
انہوں نے کہا کہ وہ غزہ کی ترقی چاہتے ہیں۔ان کے بقول غزہ کے امریکی ملکیت میں آنے کے خیال کے بارے میں جس کسی سےبھی بات کی تو اس نے اس خیال کو پسند کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ بہت ہی خوب صورت علاقہ ہے جسے تعمیر کرنا اور وہاں ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنا بہت ہی شان دار ہو گا۔
اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ وہ غزہ پر کنٹرول کے اپنے منصوبے پر کس طرح عمل کریں گے۔ لیکن انہوں نے امریکی فوج غزہ بھیجنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ضروری ہوا تو ہم یہ بھی کریں گے۔ ہم اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس کی تعمیرِ نو کریں گے۔
فلسطینی اتھارٹی اور عرب لیگ میں شامل مصر، اردن اور سعودی عرب نے پہلے ہی صدر ٹرمپ کی اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں۔
ان ممالک نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس قسم کا منصوبہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اس سے تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان بھی فلسطینیوں کے مستقبل کے حوالے سے بیانات پر پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیونٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں (ٹرمپ) نے تعمیر نو کے دوران غزہ کے 10 لاکھ 80 ہزار رہائشیوں کو عارضی طور پر وہاں سے منتقل کرنے کا کہا ہے۔
ارکو روبیو نے امریکی صدر کی تجویز کو ’انتہائی فراخ دلانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 15 ماہ کی لڑائی کے بعد وہاں سے ملبہ ہٹانے اور تعمیر نو کے لیے اہم پیشکش ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ظاہر ہے کہ اس شہر کے لوگوں کو اس وقت کہیں نہ کہیں رہنا پڑتا ہے جب آپ تعمیر نو کا کام کرتے ہیں۔‘
اسی طرح وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیونٹ نے واشنگٹن میں صحافیوں کی بریفنگ میں غزہ کی فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ’تباہ شدہ مقام‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے یہ بات واضح کی ہے کہ وہاں کے لوگوں کو عارضی طور پر غزہ سے نقل مکانی کرنا پڑے گی۔‘
واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکری تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے بعد حالیہ چند روز کے دوران لاکھوں فلسطینی غزہ کے جنوب سے شمالی علاقوں کو لوٹے ہیں جنہیں جنگ کے باعث بے گھر ہونا پڑا تھا۔