ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے ایک اور بے بنیاد الزام کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان پر آزاد کشمیر کے علاقے بیلانور شاہ میں دہشت گردوں کے مبینہ تربیتی کیمپوں کا الزام عائد کیا، مگر یہ دعویٰ بھی جھوٹا ثابت ہوا۔
الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے ملکی و غیر ملکی میڈیا نے لائن آف کنٹرول سے 26 کلومیٹر دور واقع بیلانور شاہ کا دورہ کیا۔ زمینی حقائق کے مشاہدے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہاں نہ صرف کوئی دہشت گردی کا کیمپ موجود نہیں، بلکہ معمولات زندگی مکمل طور پر پرامن اور نارمل انداز میں جاری ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے وہ اس علاقے میں مقیم ہیں، اور آج تک انہوں نے کسی تربیتی کیمپ کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں کیا۔ ایک شہری نے کہا: “ہم 37 سال سے یہاں رہ رہے ہیں، آج تک کسی کیمپ کا نام و نشان تک نہیں دیکھا۔”
وہاں موجود سیاحوں نے بھی بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں سیر و تفریح کے لیے آئے ہیں اور مقامی بچوں کو اسکول جاتے ہوئے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ علاقہ بالکل محفوظ اور پُرامن ہے۔ ایک سیاح نے کہا: “یہاں ایک کالج اور سرکاری اسکول موجود ہے، سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔”
ایک مقامی خاتون پرنسپل نے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے اپنا تعلیمی ادارہ چلا رہی ہیں، اور اس دوران کبھی کسی مشکوک سرگرمی یا غیر معمولی صورتحال کا سامنا نہیں ہوا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ نے بھارتی بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا: “بھارت بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگا رہا ہے، ان کا سارا بیانیہ فرضی اور بچگانہ ہے۔ ہم یہاں خود موجود ہیں، یہاں کسی کیمپ کا وجود ہی نہیں۔”
علاقے کا عمومی ماحول، مقامی آبادی کی مصروفیات، تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں اور سیاحوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کا دعویٰ محض پراپیگنڈا ہے، جس کا مقصد خطے میں بے چینی پیدا کرنا ہے۔
بیلانور شاہ کا پُرامن ماحول اس جھوٹ کو بے نقاب کرتا ہے جو بھارت مسلسل دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ الزام بازی بھارت کے جنگی جنون اور حقیقت سے نظریں چرانے کی ایک اور کوشش ہے۔