ویب ڈیسک: امریکی حکومت نے ایک نیا امیگریشن پروگرام متعارف کرایا ہے جس کے تحت وہ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن جو رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے، انہیں 1 ہزار ڈالر کی مالی امداد اور مفت سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ پالیسی امیگریشن کے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے اختیار کی گئی ہے،محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کے مطابق، اس اقدام کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کی شرح کو کم کرنا اور ملک بدری کے اخراجات میں کمی لانا ہے، 1 ہزار ڈالر کی نقد رقم ان کو دی جائے گی جو حکومتی پالیسی پر عمل پیرا ہوں گے جو رضامندی سے امریکہ چھوڑنے کے لئے راضی ہوں گے، حکومت ان افراد کے لیے مفت تجارتی پروازوں کا بندوبست کرے گی۔
نئی ڈیجیٹل ایپ "CBP Home" کے ذریعے روانگی کا عمل اور تصدیق مکمل کی جائے گی۔
DHS کی رپورٹ کے مطابق، ایک فرد کی جبری ملک بدری پر اوسطاً $17,000 سے زائد خرچ آتا ہے، جب کہ اس نئے رضاکارانہ پروگرام کے ذریعے یہ لاگت تقریباً 70 فیصد تک کم کی جا سکتی ہے۔
سیکریٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے کہا کہ’’ یہ اقدام انسانی ہمدردی اور معاشی دانشمندی دونوں پر مبنی ہے، جو ملک بدری کے عمل کو باعزت، محفوظ اور مؤثر بناتا ہے۔‘‘
دوسری جانب قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ افراد جو امریکہ میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، ان پر ملک چھوڑنے کے بعد 10 سال کی دوبارہ داخلے پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اپریل 2025 کے دوران اس اسکیم کے تحت 5,000 سے زائد تارکین وطن نے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔