ویب ڈیسک: وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا اڈیالہ جیل کے باہر پنجاب پولیس کے توہین آمیز رویے پر ردعمل سامنے آگیا۔
تفصیلات کےمطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا عمران خان کی بہنوں، منتخب قیادت و کارکنان کے ساتھ پنجاب پولیس کی ہتک آمیز سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پنجاب کی جعلی فارم 47 حکومت اور پولیس نے ہمارے منتخب اراکین، عمران خان کی بہنوں کیساتھ توہین آمیز رویہ رکھا۔
پنجاب حکومت نے آئین و قانون اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں ،پنجاب میں پولیس کو مریم صفدر کاذاتی فورس بنادیا گیا ، وفاق اور پنجاب کی جعلی حکومتیں جمہوری اقدار سے عاری ہے۔
علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ تمام تر فسطائیت کے باوجود بانی چئیرمن عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
دوسری جانب چیف وہیب عامر ڈوگر کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دھرنے میں شریک پی ٹی آئی ورکرز کا شکریہ ادا کیا، کہا کہ آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی ملاقات کا دن تھا،ہمارے ایم این ایز بڑی تعداد میں اڈیالہ کیلئے وہاں پہنچے،صبح سے ہی ہمیں ہراساں کیا جا رہا تھا۔
اس کے باوجود ہم بانی کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کیلئے موجود تھے،ہم بانی کی بہنوں کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے،اچانک تین سے چار ایس ایچ اوز ٹولیوں کی شکل میں میرا نام لیتے ہوئے پہنچے،ایک پولیس والے نے میرا گریبان پکڑ کر گھسیٹ کر لاٹھیاں برسائی شروع کر دیں،باقی ایم این ایز بچانے کیلئے بیچ میں آئے ان پر بھی لاٹھیاں برسائی گئیں۔
چیف وہیب عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ تمام ارکان پارلیمنٹ پر لاٹھیاں اور بہیمانہ تشدد کیا گیا، جیسے ہم کوئی چور یا عادی مجرم ہوں، لاٹھیاں مار مار کر توڑ دی گئیں،کیا قصور ہے اس عوام کا جنہوں نے لاکھوں ووٹ دے کر ہمیں قومی اسمبلی بھجوایا،میری جیت بانی پی ٹی آئی کے نظریے کی جیت تھی،یہ لاٹھیاں ،مقدمے ہمیں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔
جب تک بانی پی ٹی آئی رہا نہیں ہوتے ہم یہ جاری رکھیں گے،ہم اپنا یہ احتجاج جاری رکھیں گے، پچھلے تین سال سے ہم پر یہ غنڈہ گردی کا تسلسل ہے،خواتین پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے، یہاں جمہوریت کو دفن کر دیا گیا ہے۔