(ویب ڈیسک) منی پور میں ایک سال تک جاری رہنے والا صدارتی راج امن بحال کرنے میں ناکام رہا، بلکہ اس نے تنازع کو منجمد کر کے ریاست بھر میں تشدد کو معمول بنا دیا۔
منی پور اب بھی ایک تنازعاتی خطہ بنا ہوا ہے جسے بی جے پی حکومت نظرانداز کر رہی ہے، جبکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی بگڑتی ہوئی صورتحال پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔
منی پور میں طویل صدارتی راج نے بھارت کی وفاقی جمہوریت کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا اور ریاست کے ووٹروں کو عملاً سیاسی عمل سے محروم کر دیا۔
منی پور کا بحران حکمران جماعت کے لیے اپنی گرفت مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ریاست میں تشدد اور عدم استحکام معمول بنتے جا رہے ہیں۔
بھارتی وزیرِ اعظم مودی بیرونِ ملک مصروفیات میں مصروف ہیں جبکہ منی پور کئی دہائیوں کے بدترین داخلی بحران میں گھرا ہوا ہے، جہاں پورے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں، ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور نسلی ملیشیائیں آزادانہ طور پر سرگرم ہیں۔
بھارتی فوجی قافلوں اور نیم فوجی دستوں پر مقامی باغیوں کی جانب سے متعدد حملے کیے گئے، جو دہلی کی جانب سے دیرینہ مسائل حل کرنے میں ناکامی کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔
مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے بجائے دہلی نے مزید فوجی تعیناتی، کرفیو اور انٹرنیٹ بندش جیسے اقدامات کیے، جنہوں نے مقامی آبادی میں احساسِ محرومی کو مزید بڑھا دیا۔