امریکی محکمہ دفاع کا نام بدل کر "محکمہ جنگ" رکھ دیا گیا

امریکی محکمہ دفاع کا نام بدل کر
کیپشن: امریکی محکمہ دفاع کا نام بدل کر "محکمہ جنگ" رکھ دیا گیا

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر "محکمہ جنگ" رکھنے کیلئے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ چیزوں کو ان کے اصلی ناموں سے پکارا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگ کا نام تبدیل کرنے سے دنیا کو واضح اور طاقتور پیغام جائے گا کہ امریکہ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر نیا نام زیادہ مناسب ہے۔ جنگ کا شعبہ دنیا کو امریکی طاقت کا پیغام دے گا۔

خیال رہے کہ اس موقع پر پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہائیسٹ بھی موجود تھے۔ نام کی تبدیلی کے بعد اب انہیں باضابطہ طور پر سیکرٹری آف وار (وزیر جنگ) کہا جائے گا۔

روس اور یوکرین جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ یوکرین سے متعلق معاہدہ زیر غور ہے۔ ہم نے 7 جنگیں روک دی ہیں، یوکرین روس جنگ کو روکنا تھوڑا مشکل ہے لیکن ہم متحرک ہیں۔ ہم یوکرین کو سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔

غزہ جنگ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ حماس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کر رہے ہیں، ٹرمپ نے کہا کہ حماس 20 اسرائیلیوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور حال ہی میں ایسی خبریں آئی ہیں کہ کچھ یرغمالی مارے گئے ہیں، امید ہے کہ یہ خبر جھوٹی ہے۔

صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو وہ سخت اقدامات اٹھائیں گے۔

انہوں نے بھارت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے روسی تیل خریدنا مایوس کن ہے، روسی تیل خریدنے کی وجہ سے بھارت پر ٹیرف کو دوگنا کیا گیا ہے۔

Watch Live Public News