ٹرمپ مذاکرات کیجانب نہ بڑھے توامریکامعاشی بحران کا شکار ہوجائےگا،سرمایہ کار بول پڑے

ٹرمپ مذاکرات کیجانب نہ بڑھے توامریکامعاشی بحران کا شکار ہوجائےگا،سرمایہ کار بول پڑے
کیپشن: ٹرمپ مذاکرات کیجانب نہ بڑھے توامریکامعاشی بحران کا شکار ہوجائےگا،سرمایہ کار بول پڑے

ویب ڈیسک: امریکی ارب پتی سرمایہ کار بل آکمین نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی جانب نہ بڑھے تو امریکا معاشی بحران کا شکار ہوجائے گا۔ 

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق بل آکمین نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتائج امریکا کیلئے سنگین ہوسکتے ہیں۔ امریکی صدر کی تجارتی پالیسی امریکا کو ایک خودساختہ معاشی جنگ میں دھکیل رہی ہے۔ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے امریکا پر اعتماد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی سے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کا امریکا پر اعتماد کم ہورہا ہے اور اس کا واضح طور پر نقصان امریکا کوہوگا۔ اس کے علاوہ کم آمدنی والے افراد جوپہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ 

بل آکمین کا مزید کہنا تھا کہ یہ قطعی طور پر وہ نتائج نہیں ہیں جن کی توقع امریکی شہریوں نے ٹرمپ کو منتخب کرتے ہوئے کی تھی۔ 

واضح رہے کہ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی میں 180 سے زائد ممالک پر 10 فیصد بیس لائن لیوی عائد کی گئی ہے۔ جس نے عالمی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ٹیرف پالیسی سے چین کیساتھ امریکی تجارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ چین کی جانب سے ردعمل کے طور پر امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف کا نفاذ ہے۔ 

امریکی سرمایہ کار بل آکمین نے خبردار کیا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی طرف نہیں بڑھتے تو امریکا ایک معاشی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ جس کے اثرات دنیا بھر پر پڑسکتے ہیں۔ 

یاد رہے کہ امریکی محکمہ تجارت نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، اور امریکی کامرس سکریٹری ہاورڈ لوٹنک نے بھی اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کی ہے کہ وہ عالمی تجارتی بحران کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم ہیں۔

Watch Live Public News