ویب ڈیسک: امریکی خلائی ادارے NASA کے Artemis II mission نے تاریخ رقم کرتے ہوئے انسانوں کو زمین سے اب تک کے سب سے زیادہ فاصلے تک پہنچا دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چار خلا بازوں پر مشتمل عملہ چاند کے اُس حصے کے قریب پہنچا جو زمین سے نظر نہیں آتا، جہاں انہوں نے شہابیوں کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی روشنیوں کا بھی مشاہدہ کیا۔
اورین اسپیس کرافٹ میں سوار خلا باز زمین سے تقریباً 252,756 میل (4 لاکھ 2 ہزار کلومیٹر) دور پہنچے، جو اب تک کا سب سے زیادہ فاصلہ ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ 1970 میں Apollo 13 کے پاس تھا۔
???? LIVE FROM SPACE: President Donald J. Trump Calls Artemis II Astronauts After Breaking the Farthest Distance Record in Human Spaceflight ???????? HISTORIC!
— The White House (@WhiteHouse) April 7, 2026
"Your mission paves the way for America's return to the lunar surface very soon." pic.twitter.com/1TzmIEQG0l
اس تاریخی مشن میں شامل خلا بازوں میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔
تقریباً چھ گھنٹے پر محیط فلائی بائی کے دوران خلا بازوں نے چاند کی سطح کا قریب سے جائزہ لیا، نئی تصاویر بنائیں اور چند غیر نامزد گڑھوں کو عارضی نام بھی دیے۔
یہ مشن نہ صرف سائنسی تحقیق میں اہم پیش رفت ہے بلکہ مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ جیسے سیاروں تک انسانی مشنز کی تیاری کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔