ٹرمپ کابین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانےکافیصلہ

ٹرمپ کابین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانےکافیصلہ
کیپشن: ٹرمپ کابین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانےکافیصلہ

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کر دیے ہیں جس کے ذریعے عالمی فوجداری عدالت پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف بے بنیاد اقدامات کا الزام لگاتے ہوئے ادارے پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد عالمی عدالت کی تحقیقات میں شامل عملے اور ان کے اہلخانہ پر مالیاتی اور ویزہ پابندیاں عائد ہوں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم نامے پر اس وقت دستخط کیے جب اسرائیلی وزیر اعظم واشنگٹن میں کانگریس کے اراکین سے ملاقات کر رہے تھے۔ دونوں کی ملاقات منگل کو وائٹ ہاؤس میں ہوئی تھی۔

امریکی پابندیاں عالمی فوجداری عدالت کی آزادی اور عدالتی نطام کیلئےخطرہ:یورپی یونین

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیاں عالمی فوجداری عدالت کی آزادی اور عدالتی نطام کے لیے خطرہ ہیں۔ دوسری جانب آئی سی سی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ’دنیا بھر میں انصاف فراہم کرتی رہے گی۔‘
رپورٹ کے مطابق یورپی کونسل کے سربراہ انتونیو کوسٹا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’آئی سی سی پر پابندیوں سے عدالت کی آزادی کو خطرہ ہے اور یہ مجموعی طور پر عالمی فوجداری انصاف کے نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘یورپی کمیشن نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئی سی سی پر پابندیوں کے حکم نامے پر افسوس کا اظہار کیا۔

یورپی کمیشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر سے ’ عدالت کی طرف سے جاری تحقیقات اور کارروائیوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین ایگزیکٹو آرڈر کے مضمرات اور ممکنہ مزید اقدامات کا جائزہ لے گی۔‘

دوسری جانب عالمی فوجداری عدالت نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ’دنیا بھر میں انصاف فراہم کرتی رہے گی۔‘

جمعے کو عالمی فوجداری عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ آئی سی سی امریکہ کی طرف سے ایک ایگزیکٹو آرڈر کی مذمت کرتا ہے جس میں اس کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے اور اس کے آزاد اور غیر جانبدارانہ عدالتی کام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
دی ہیگ میں قائم عدالت نے مزید کہا کہ ’ عدالت اپنے اہلکاروں کے ساتھ کھڑی ہے اور دنیا بھر میں مظالم کا شکار ہونے والے لاکھوں بے گناہوں کو انصاف اور امید کی فراہمی جاری رکھنے کا عہد کرتی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس پر اسرائیل سراپا احتجاج تھا۔

اس سے قبل جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت پر الزام لگایا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے لیے بیک وقت یہ سزائیں جاری کرتے ہوئے آئی سی سی نے اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی پٹی پر بھی طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا متنازعہ اعلان جاری کر رکھا ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں غزہ میں طویل المدتی ملکیت دیکھتا ہوں۔

ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد فلسطین سمیت دیگر ممالک نے امریکی صدر کے بیان کو متنازعہ قرار دیا۔

Watch Live Public News