(ویب ڈیسک ) جسٹس بابر ستار نے بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کو 6 صفحات کو خط لکھ دیا ۔
جسٹس بابر ستار نے ٹرانسفر ججز کی سینیارٹی لسٹ جاری کرنے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ خط میں چیف جسٹس عامر فاروق کے ہائیکورٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی تبدیلی کو بھی غیر قانونی کہہ دیا ۔جسٹس بابر ستار نے سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن فائل کرنے کا ذکر کیا ۔
خط میں کہا گیا ہے کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے نوٹیفکیشن واپس لئے جائیں ، سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے ،بغیر اسلام آباد ہائیکورٹ جج کے حلف اٹھائے ٹرانسفر ججز کو کمیٹی میں رکھنا غیر قانونی ہے ، ٹرانسفر نوٹیفکیشن میں کہیں نہیں لکھا ٹرانسفر عارضی ہے یا مستقل ہے ۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 194 کے تحت ہمارے معزز ساتھی ججز نے اپنی اپنی ہائیکورٹس کا حلف اٹھا رکھا ہے ، حلف میں تینوں ججز نے کہہ رکھا ہے وہ اپنی اپنی ہائیکورٹس میں بطور جج اپنی ذمہ داریاں نبہائیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرانسفر کے بعد تینوں ججز نے حلف نہیں اٹھایا جو اٹھانا ضروری تھا ، حلف کے بغیر وہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنی ڈیوٹی شروع نہیں کر سکتے تھے ، ان کو حلف کے بغیر جوڈیشل اور انتظامی کام کے لحاظ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج نہیں کہا جا سکتا ۔
خط میں لکھا کہ آپ کی زیر نگرانی تینوں ججز آرٹیکل 194 کی خلاف ورزی میں بغیر حلف تین فروری سے جوڈیشل کام شروع کر چکے ہیں ، آرٹیکل 194 کے تحت بطور چیف جسٹس آپ کی ذمہ داری تھی کہ آپ تینوں ججز سے حلف لیتے ، بغیر حلف ججز سے جوڈیشل اور انتظامی کام لینا ان کے لئے بعد میں شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے ۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز کے مطابق ایڈمنسٹریشن کمیٹی چیف جسٹس اور دو ججز پر مشتمل ہو گی ، اس لحاظ سے 9 ویں نمبر کے جج جسٹس خالد سومرو کو کمیٹی میں شامل نہیں کر سکتے تھے ، بے تکے طریقے سے ایڈمنسٹریشن کمیٹی کی دوبارہ تشکیل کی گئی ۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایڈمنسٹریشن کمیٹی میں سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے دو ججز کو شامل کر لیا گیا جن کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا ابھی انتظامی کوئی تجربہ نہیں ، تین دن پہلے ان کی ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ساتھ ہی کمیٹی میں شامل کر لیا گیا ، ہم تقریبا روزانہ جوڈیشل سائیڈ پر کہہ رہے ہوتے ہیں ایگزیکٹو قانون کے مطابق شفاف طریقے سے اختیار استعمال کر سکتا ہے۔ آپ اتفاق کریں گے ججز بھی صوابدیدی اختیارات استعمال کے اتنے ہی پابند ہیں جتنا ہم ایگزیکٹو کو کہتے ہیں ۔