ویب ڈیسک: کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے مستعفی ہونے پر امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ کینیڈا کو اب باضابطہ طور پر امریکی ریاست بن جانا چاہیے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو پارٹی قیادت اور وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں، حکمران جماعت لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کے انتخاب تک جسٹن ٹروڈو نگراں کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کے شہری امریکا کی 51 ویں ریاست بننے پر بہت خوش ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اب ان بڑے تجارتی خسارے کا شکار نہیں ہو سکتا جس سے کینیڈا گزر رہا ہے، جسٹن ٹروڈو کو اس بات کا اندازہ تھا اس لیے وہ مستعفی ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کینیڈا امریکا کے ساتھ ’ضم‘ ہو جاتا ہے تو انہیں خسارے کا سامنا بھی نہیں کرنا ہو گا اور کینیڈین کم ٹیکس ادا کریں گے۔
نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں ضم ہونے سے امریکا اور کینیڈا روسی اور چینی بحری جہازوں کے خطروں سے بھی مکمل طور پر محفوظ رہیں گے اور یہ ایک عظیم قوم بن جائے گی۔
وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز کہا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ،جنہوں نے نو سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد آنے والے مہینوں میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے ، امریکہ کے ایک مخلص دوست تھے ۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرن یاں پئیر نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’’ وزیر اعظم ٹروڈو کینیڈا کی حکومت کی عشرے پر محیط اپنی قیادت کے دوران ، امریکہ کے مخلص دوست رہے ہیں ، ہم نے ہر قسم کے معاملات پر قریبی طور پر مل کرکام کیا ہے ۔‘‘
ترجمان نے مزید کہا، ’’ صدر وزیر اعظم کی اس تمام شراکت داری اور نارتھ امریکہ کا اکیسویں صدی کے جیو پولیٹیکل خطرات سے دفاع کرنے سے ان کی وابستگی پر ان کے شکر گزار ہیں ۔"
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو اپنی قیادت پر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کے پیش نظر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا کے وزیر خزانہ کی اچانک رخصتی کے بعد ٹروڈو کے استعفے کو ان کی حکومت میں بڑھتے ہوئے اندرونی خلفشار کے اظہار کے طور پر لیا جارہا ہے۔
اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ٹروڈو نے کہا کہ موجودہ صورت حال نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ وہ "اندرونی لڑائیوں کی وجہ سے اگلے انتخابات کے دوران قیادت نہیں کر سکتے۔"
ٹروڈو کے مطابق وہ لبرل پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب تک وزیر اعظم رہیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا، "میں آسانی سے کسی لڑائی میں ہار نہیں مانتا، خاص طور پر جب یہ لڑائی اپنی جماعت اور ملک کے لیے اہم ہو۔"
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر کینیڈا کی حکومت نے امریکہ میں تارکین وطن اور منشیات کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش نہیں کی تو اس کی تمام درآمدی اشیاء پر 25 فیصد محصولات عائد کر دیے جائیں گے۔
اے پی کے مطابق امریکہ کے دوسرے ہمسایہ ملک میکسیکو کے مقابلے میں کینیڈا سے امریکہ میں بہت کم تارکین وطن اور منشیات کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خیال رہےکہ کینیڈا امریکہ کو تیل اور قدرتی گیس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔
اس کے علاوہ، امریکہ اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں کے لیے بھی اپنے شمالی پڑوسی پر انحصار کرتا ہے۔