ویب ڈیسک: ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی، صبر اور سمجھ بوجھ خوشحال گھرانے کی بنیاد ہوتی ہے۔ تاہم بعض اوقات حالات ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں کہ مرد دوسری شادی کا ارادہ کر لیتا ہے۔ اس موقع پر سب سے بڑی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ پہلی بیوی کو اس فیصلے پر راضی کیا جائے۔ بہت سے لوگ اس معاملے میں دعا، استخارہ یا روحانی وظائف کا سہارا لیتے ہیں تاکہ معاملات آسان ہوں اور دلوں میں نرمی پیدا ہو۔
اسلام نے تعددِ ازواج کی اجازت ضرور دی ہے لیکن ساتھ ہی انصاف اور حسنِ سلوک کی سخت تاکید بھی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو مرد دوسری شادی کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کی بجائے عقل و انصاف سے فیصلہ کریں اور پہلی بیوی کے دل کو ٹھیس پہنچانے کے بجائے نرمی اور محبت سے بات کریں۔
دارالافتاءجامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کی ویب سائٹ پردوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کو راضی کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پرتفصیلی وظیفہ شائع کیا گیا ہے۔ جو کہ قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔
دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کو رضامند کرنا
سوال
میں شادی شدہ ہوں اور میں اپنی بیوی کو بہت خوش رکھتا ہوں، الحمد للہ میں زنا کے قریب بھی نہیں جاتا، میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں. ایک لڑکی مجھے پسند ہے، برائے مہربانی وظیفہ دیں؛ تاکہ میری پہلی بیوی راضی ہوجائے، ان شاءاللہ دونوں کو خوش رکھوں گا!
جواب
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا﴾ [النساء:3]
ترجمہ: اور اگر تم کو اس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو، دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو، یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے.( بیان القرآن )
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کو ایک سے زائد چار تک شادیاں کرنے کی اجازت اس صورت میں جب وہ ان کے درمیان برابری اور انصاف کر سکے، جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت رکھتا ہو اور اس میں بیویوں کے درمیان برابری کرنے کی اہلیت ہو، لہذا اگر کسی شخص میں جسمانی یا مالی طاقت نہیں یا اسے خوف ہے کہ وہ دوسری شادی کے بعد برابری نہ کرسکے گا تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں.
"سنن ابی داود" میں ہے:
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى أحدهما جاء يوم القيامة وشقه مائل". ( سنن أبي داؤد 3 / 469)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی جانب جھک جائے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب فالج زدہ ہوگی.
مذکورہ بالا تفصیل کے پیشِ نظر اگر آپ دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت رکھتے ہیں اور دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے حقوق خوش اسلوبی سے برابری کے ساتھ ادا کرسکتے ہیں تو آپ کے لیے دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے، پہلی بیوی سے اجازت لیناضروری تو نہیں ہے، تاہم دوسری شادی سے پہلے اگر اپنی اہلیہ کو اعتماد میں لے لیں تو بہتر ہے ،تاکہ مستقبل میں ذہنی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں اور دوسری شادی کامقصدپوری طرح حاصل ہو۔
اور اگر آپ کی پہلی بیوی کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور اس کو تکلیف اور غم سے بچانے کے لیے آپ شادی نہیں کرتے تو یہ آپ کے لیے اجر اور ثواب کا باعث بھی ہوگا۔
آپ اس کے لیے اللہ سے دعا مانگتے رہیں کہ جو آپ کے حق میں بہتر ہو اس کے اسباب مہیا ہوجائیں اور استخارہ بھی کرتے رہیں، اس کا طریقہ درج ذیل لنک پر ملاحظہ کیجیے:
نیز "یا ودود" کا ورد بھی جاری رکھیں اور درج ذیل دعاؤں میں سے جو یاد ہو اس کا ورد رکھیں:
1- "اَللّٰهُمَّ خِرْ ليْ وَاخْتَرْ لِيْ". (کنز العمال)
اے اللہ ! میرے لیے آپ پسندفرمادیجیے کہ مجھے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہی.
2- "اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ وَسَدِّدْنِيْ". (صحیح مسلم)
اے اللہ ! میری صحیح ہدایت فرمائیے اور مجھے سیدھے راستے پر رکھیے۔
3- "اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِيْ، وَأَعِذْنِيْ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ"․ (الترمذي)
اے اللہ ! جو صحیح راستہ ہے وہ میرے دل پر القا فرمادیجیے، اور مجھے اپنے نفس کے شر سے بچائیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
" (و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر". (3/ 48، کتاب النکاح، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها، كذا في السراجية. ". (1/ 341، کتاب النکاح، الباب الحادی عشر في القسم، ط: رشیدیة) فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144108200946
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اس وظیفے کو پڑھنے کیلئے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی ویب سائٹ پر جا کر مطالعہ کر سکتے ہیں۔