ویب ڈیسک: (علی زیدی) تھائی لینڈ کے بادشاہ کی توہین کے الزام میں امریکی ماہر تعلیم کو گرفتار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق تھائی لینڈ میں ایک امریکی لیکچرر کو بادشاہ کی مبینہ توہین کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ امریکی کی شناخت پال چیمبرز کے نام سے ہوئی ہے جو کہ ناریسوان یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وہ تدریس کے ساتھ ساتھ افواج اور سیاست پر تجزیہ بھی لکھتے رہے ہیں۔جہاں انہوں نے مبینہ طور پرتھائی بادشاہ کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تھائی قوانین کے مطابق پال چیمبرز کو کارروائی کے بعد سزا کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ان پر یہ الزام گزشتہ سال انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایسٹ ایشین اسٹڈیز کی ویب سائٹ پر فوجی ردوبدل کے بارے مین شائع ہونے والی تحریر کے تناظر میں لگایا گیا ہے۔ تاہم پال نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے تحریر سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
پال چیمبرز کے وکیل کا کہنا ہے کہ پال چیمبرز کے خلاف ہفتہ کے روز فوج کی جانب سے شکایت کے بعد مقدمہ درج کر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے تاہم منگل کے روز پال چیمبرز نے اپنے آپ کو پولیس کے سامنے پیش کر دیا اور بعد ازاں عدالت میں بھی پیش ہوئے۔ جہاں پال چیمبرز کی ضمانت منسوح ہونے کی صورت میں انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔
تھائی قوانین کے مطابق بادشاہت اور فوج پر تنقید ممنوع
تھائی لینڈ کے قانون کے تحت، بادشاہ، ملکہ، یا ولی عہد پر تنقید کرنے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 15 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ حالیہ برسوں میں سینکڑوں افراد کو اسی قانون کے تحت مقدمات کا سامنا رہا ہے۔ چیمبرز کو لیز میجسٹی کے قانون اور کمپیوٹر کرائمز ایکٹ کے تحت الزامات کا سامنا ہے۔
پال چیمبرز نے گرفتاری سے قبل بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں الزامات کی نوعیت کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے اور وہ ممکنہ 15 سالہ سزا سے پریشان ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کا مؤقف
اس معاملے پر پیر کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا پال چیمبرز کی گرفتاری کی اطلاعات پر "تشویش" کا اظہار کرتا ہے اور قونصلر معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تھائی حکام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی اقدار کے مطابق شہریوں کو آزادیِ اظہارِرائے کا حق فراہم کرے۔