(ویب ڈیسک ) دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں پر مظالم کے الزامات میں طالبان کے دو اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی پر 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کو ان کی جنس کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے سنگین الزامات ہیں، جنہیں "انسانیت کے خلاف جرم" قرار دیا گیا ہے۔
طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد لڑکیوں کو 12 سال کی عمر کے بعد تعلیم سے روک دیا، خواتین پر کئی نوکریوں میں کام کرنے پر پابندی عائد کی، اکیلے سفر پر پابندیاں لگائیں اور عوامی مقامات پر آواز بلند کرنے سے بھی منع کر دیا۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ قوانین پوری آبادی پر لاگو کیے گئے، لیکن خواتین اور بچیوں کو خاص طور پر ان کی صنف کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
اقوامِ متحدہ بھی ان پابندیوں کو "صنفی امتیاز پر مبنی ظلم" قرار دے چکی ہے۔
طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ اسلامی شریعت اور افغان ثقافت کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتی ہے۔
خیال رہے کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ 2016 سے طالبان کے سپریم لیڈر ہیں اور 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے "اسلامی امارت افغانستان" کے سربراہ ہیں۔
عبدالحکیم حقانی، طالبان کے بانی ملا عمر کے قریبی ساتھی اور 2020 میں امریکا سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن رہ چکے ہیں۔