فرانسیسی جریدے نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کیلئے خطرناک موڑ قرار دیدیا

فرانسیسی جریدے نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کیلئے خطرناک موڑ قرار دیدیا
کیپشن: فرانسیسی جریدے نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کیلئے خطرناک موڑ قرار دیدیا

ویب ڈیسک: فرانسیسی جریدے لی موند کی رپورٹ نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے خطرناک موڑ قرار  دےدیا۔

فرانسیسی جریدے کے مطابق سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، اس میں تبدیلی صرف دونوں ممالک کے اتفاق سے ممکن ہے۔ مستقل ثالثی عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے۔ بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم فراہمی پاکستان کے لیے سیلابی پیشگی وارننگ کو مشکل بنا رہی ہے۔

جریدے کے مطابق پاکستانی پنجاب کے کسان اچانک سیلاب، فصلوں کی تباہی اور زمین پر ریت کی تہہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے چناب کے کنارے آباد خاندانوں نے مویشی، فصلیں اور گھروں کا سامان کھو دیا۔ پاکستانی موقف کو اجاگر کیا کہ پانی کی بندش یا موڑنے کی کوشش سنگین اشتعال انگیزی تصور ہوگی۔

  فرانسیسی جریدے نے بھارتی قیادت کے بیانات کو پانی کے سیاسی استعمال کی واضح مثال کے طور پر پیش کیا ۔ بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے پانی روکنے کی دھمکی پر پاکستان نے اسے 'واٹر ٹیررازم' قرار دیا۔ پاکستان کا مؤقف صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق، زراعت، خوراک اور بقا کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔  سندھ طاس نظام پاکستان کی معیشت اور آبادی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ 

  فرانسیسی جریدے کے مطابق بھارت خود چین کے ہاتھوں بالائی آبی دباؤ سے پریشان ہے۔ چین کے ساتھ براہم پترا کے معاملے پر بھارت وہی خطرہ محسوس کرتا ہے جو پاکستان بھارت سے محسوس کر رہا ہے۔آبی تنازعہ دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور ماحولیات کا سوال بن چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور آبادی میں اضافے کے باعث پاک بھارت آبی تعاون پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ آبی ڈیٹا کی شفاف فراہمی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔  بھارت کی یکطرفہ روش بین الاقوامی دریائی قوانین اور نچلے بہاؤ کے حقوق کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

  فرانسیسی جریدے کے مطابق پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مضبوط ہوا کہ پانی کو جنگ، دباؤ یا انتقام کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

Watch Live Public News