ویب ڈیسک: سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر کیے گئے اقدامات سے آئل کمپنیز کو صارفین کے نقصان پر بھاری منافع دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرول پر فی لیٹر 20 روپے لیوی بڑھانے سے آئل کمپنیز کو 35 روپے فی لیٹر اضافی منافع حاصل ہوا، جبکہ ڈیزل پر فی لیٹر 20 روپے لیوی کم کرنے سے 70 روپے فی لیٹر اضافی منافع حاصل ہوا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ آئل کمپنیز جو فی الحال پیٹرول اور ڈیزل فروخت کر رہی ہیں، وہ 28 فروری سے پہلے کم قیمت پر خریدی گئی تھیں اور یکم تا 15 مارچ کے دوران طے شدہ قیمتوں میں اخراجات اور منافع شامل تھے، اس لیے قیمتیں بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی۔
سابق وزیر نے کہا کہ یہ فیصلہ بحران کا فائدہ اٹھا کر آئل کمپنیز کے منافع میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے، بالکل ویسا ہی جیسے حکومت نے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دے کر مالکان کو فائدہ پہنچایا لیکن عوام کو نقصان ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول کی کمی سے بچنے کے لیے حکومت ایک ہفتے کے لیے لیوی بڑھا سکتی تھی یا آئل کمپنیز اور پٹرول پمپوں کی بہتر نگرانی کر سکتی تھی، لیکن بجائے اس کے حکومت نے آئل کمپنیز کو فائدہ پہنچانے والا فیصلہ کیا۔