ویب ڈیسک: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد پانچ بنیادوں پرعدالتی نظام میں اصلاحات کیں۔ رولز کو ایک دن میں نہیں بنایا جاسکتا۔ پروپوزلز کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے۔کمیٹی جو تجویز کرےگی اس کے مطابق آگے چلیں گے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ تقریب میں تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہمیشہ قانون کی بالادستی کیلئے کام کیا۔ عدالتی نظام میں شفافیت اور آسانیوں سے سائلین کو فوری انصاف ملے گا۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عدالتی نظام کو مؤثر بنایا جارہا ہے۔ مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیح ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی کا کہنا تھا کہ عہدہ سنبھانے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس ہوئی۔5بنیادوں پر عدالتی نظام میں اصلاحات کیں۔ سپریم کورٹ میں اینٹی کرپشن ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں عوامی رائے کیلئے خصوصی پورٹل فعال کیا گیا۔ وکلا سے متعلق تمام معلومات سہولت مرکز میں دستیاب ہوں گے۔ سہولت مرکز میں معلومات دفتری کام متاثر کیے بغیر دستیاب ہوں گی۔
چیف جسٹس نے بتیا کہ رولز کو ایک دن میں نہیں بنایا جاسکتا۔ پروپوزلز کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے۔کمیٹی جو تجویز کرےگی اس کے مطابق آگے چلیں گے۔ جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست سال بھر چیف جسٹس کے کمرے میں پڑی رہتی تھیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید بتایا کہ میرے اور ججز کے ساتھ سیکیورٹی میں کمی کی گئی ہے۔ ریڈزون میں پروٹوکول میں کمی کی گئی ہے۔ اسلام آباد سے باہر جانے پرججزکو سیکیورٹی کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن ریڈزون میں اتنی نہیں۔ میرے ساتھ سیکیورٹی کی 9 گاڑیاں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا ریڈ زون میں عدالت اور رہائش ہے اتنی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں۔ اپنی سیکیورٹی کی گاڑیاں کم کر کے صرف دو رکھی ہیں۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ رولز میں ججز کی چھٹیوں کا معاملہ واضح کیا۔ عدالتی تعطیلات کے دوران کسی جج کو اجازت کی ضرورت نہیں۔ عام تعطیلات کے علاوہ چھٹی کیلئے بتانا لازمی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کیخلاف 64 شکایات کا فیصلہ ہو چکا۔72 شکایات رائے کیلئے ممبرز کو دی گئی ہیں۔ باقی 65 کیسز رہ گئے ہیں۔ اس ماہ کے آخر تک سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ ہو گی۔ باقی 65 کیسز بھی ججز کو دے دیئے جائیں گے۔ پہلے آئے کیسز کو پہلے دیکھ رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کریں گے سب سے نیچے سے کوئی کیس اٹھا کر اوپرلے آئیں
سپریم کورٹ میں سہولت سنٹر کا افتتاح کردیا گیا:
سپریم کورٹ میں سائلین کیلئے سہولت سنٹر کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے عدالت آئے سائل سے ہی افتتاح کروایا۔ میڈیا سنٹر اور نئے پبلک کئفیٹریا کا افتتاح بھی کر دیا گیا۔ میڈیا سنٹر کا افتتاح صدر سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن ذوالقرنین اقبال نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ ججز نے شرکت کی۔ پبلک کیفیٹیریا کا افتتاح صدر سپریم کورٹ بار میاں رؤف نے کیا۔