طاقتوروں کو سوچنا ہوگا،لوگوں کےدلوں میں نفرت بڑھ رہی ہے،اعظم سواتی

طاقتوروں کو سوچنا ہوگا،لوگوں کےدلوں میں نفرت بڑھ رہی ہے،اعظم سواتی
کیپشن: طاقتوروں کو سوچنا ہوگا،لوگوں کےدلوں میں نفرت بڑھ رہی ہے،اعظم سواتی

ویب ڈیسک: اعظم سواتی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ندامت ہوتی ہے کہ میں جیل میں تھا اور پولیس والوں کو مارنے کے مقدمات مجھ پر درج کیے گئے۔لوگوں کے دلوں میں نفرت بڑھ رہی ہے اور ادارے تباہ ہو چکے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے باہر سینیٹر اعظم سواتی نے میڈیا سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالتوں کے اندر کثیر تعداد میں صرف اسلام آباد کے لوگ پیش ہو رہے ہیں۔ آج  میری آٹھ مختلف مقدمات میں مختلف عدالتوں میں پیشی تھی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ندامت ہوتی ہے کہ میں جیل میں تھا اور پولیس والوں کو مارنے کے مقدمات مجھ پر درج کیے گئے ۔جس ملک کا کریمنل سسٹم اس حد تک تشویش ناک ہو، وہاں انصاف کی کیا توقع کی جائے ۔لوگوں کے دلوں میں نفرت بڑھ رہی ہے اور ادارے تباہ ہو چکے ہیں ۔طاقتوروں کو سوچنا ہوگا کہ یہ عوام ہماری ہے یہ لوگ ہمارے ہیں ۔
اعظم سواتی نے مزید کہا کہ آئین اور قانون ہوتا تو یہ چھ ایس ایچ اوز جنہوں نے مجھ پر مقدمے درج کیے دوسرے ملک میں انہیں الٹا لٹکا دیا جاتا۔سوچیں کہ آپ اس طرح ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں ؟ملک کی بساط لپیٹنے کی بجائے اسے آگے لے کر چلنا ہوگا۔

Watch Live Public News