(ویب ڈیسک)اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی جانب سے منظور کیے گئے غزہ سے متعلق 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج فلسطینی علاقے سے انخلا نہیں کرے گی۔
انادولو کے مطابق کابینہ کے اجلاس کے آغاز کے بعد ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ” اسرائیل نے بورڈ آف پیس کی جانب سے غزہ کے لیے جاری کردہ 15 نکاتی دستاویز مسترد کر دی ہے۔“
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ”اسرائیلی فوج اس وقت تک کوئی انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔“
اسرائیلی وزیر اعظم نے بتایا کہ اسرائیل اس معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن نے کئی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں سے ”کچھ اسرائیل کے لیے قابل قبول ہیں جبکہ کچھ قابل قبول نہیں۔“
اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بورڈ آف پیس نے 31 جولائی کو ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے اگلے مرحلے کے لیے ایک مسودہ معاہدہ جاری کیا تھا۔ اس مسودے میں غزہ کے لیے سکیورٹی، انتظامی اور عبوری انتظامات کے ساتھ ساتھ ایک ممکنہ سیاسی عمل کے خدوخال بھی شامل ہیں۔