ویب ڈیسک: پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ فضائی جھڑپ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کی عسکری قوتوں کے لیے گہری دلچسپی کا موضوع بن گئی ہے، کیونکہ اس میں چینی ساختہ پاکستانی J-10 طیارے اور فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل طیارے آمنے سامنے آئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز پاکستانی J-10 طیاروں نے کم از کم دو بھارتی فوجی طیارے مار گرائے، جب کہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے، جن میں تین رافیل شامل ہیں، تباہ کیے۔ یہ لڑائی مبینہ طور پر 30 پاکستانی اور 70 بھارتی جنگی طیاروں کے درمیان ہوئی۔
بی بی سی ویری فائی نے متعدد ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جو پاکستان کے دعوے کی جزوی تائید کرتی ہیں۔
یہ نادر موقع عالمی دفاعی ماہرین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ وہ پائلٹوں کی مہارت، جدید طیاروں اور ایئر ٹو ایئر میزائلوں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر مستقبل کی جنگوں کی تیاری کر سکیں۔
امریکی حکام اور مغربی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اس جھڑپ میں چینی ساختہ PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائل استعمال کیے، جنہیں یورپی میٹیور میزائل کے مقابلے میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک اسلحہ استعمال ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے سینئر فضائی دفاعی ماہر ڈگلس بیری نے کہا، ’’اگر واقعی PL-15 اور میٹیور آمنے سامنے آئے، تو یہ چین اور مغرب کے سب سے جدید فضائی ہتھیاروں کا عملی موازنہ ہو گا۔‘‘
چینی PL-15 میزائل، جو راکٹ پاورڈ ہے، اور یورپی میٹیور، جو ایئر بریتھنگ انجن پر مشتمل ہے، دونوں کی کارکردگی عالمی تجزیہ کاروں کی خاص توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ PL-15 کی لمبی رینج کو امریکا اور اس کے اتحادی سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اور اسی کے ردعمل میں امریکا لوک ہیڈ مارٹن کے ذریعے AIM-260 تیار کر رہا ہے۔
اگرچہ PL-15 کی اصل رینج پر تضاد ہے، تاہم مغربی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو شاید اس میزائل کا ایکسپورٹ ورژن ملا ہے، جو چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (PLAAF) کے استعمال کردہ ورژن سے کم طاقتور ہو سکتا ہے۔
خبر میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ جنگی مشق صرف ہتھیاروں کی کارکردگی نہیں بلکہ پائلٹس کی تربیت، حربی حکمت عملی، اور مشینی عوامل سے جڑے کئی پہلوؤں کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ دفاعی کمپنیوں کو بھی اپنے ہتھیاروں کے نتائج جاننے میں خاص دلچسپی ہے، جیسا کہ یوکرین جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات میں دیکھا گیا۔