شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھی پر فردِ جرم کی منظوری، ملکی خزانےکو کروڑ کا نقصان

 شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھی پر فردِ جرم کی منظوری، ملکی خزانےکو کروڑ کا نقصان

ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کی کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے نجی سرمایہ کاری مشیر اور بیکسمکو گروپ کے وائس چیئرمین سلمان ایف رحمان کے خلاف 97 ملین ڈالر (تقریباً 1200 کروڑ ٹکہ) کی مبینہ منی لانڈرنگ کے 17 مقدمات میں فردِ جرم کی منظوری دے دی ہے۔

تحقیقات کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران بیکسمکو کے چیئرمین اے ایس ایف رحمان، وائس چیئرمین سلمان ایف رحمان اور ان کے کئی ساتھیوں نے 17 ذیلی کمپنیوں کے ذریعے غیر ملکی تجارت کے نام پر رقم بیرونِ ملک منتقل کی۔

ان کمپنیوں میں ایڈونچر گارمنٹس، اپالو اپیرلز، بیکسٹیکس گارمنٹس، انٹرنیشنل نٹ وئیر اینڈ اپیرلز، کوزی اپیرلز اور اربن فیشن سمیت دیگر شامل ہیں۔

سی آئی ڈی کی فنانشل کرائمز یونٹ کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے جنٹا بینک کے موٹی جھیل برانچ سے ایل سیز (Letters of Credit) کھولے مگر برآمدی آمدنی ملک میں واپس نہیں لائی۔

تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ رقم دبئی میں قائم آر آر گلوبل ٹریڈنگ نامی کمپنی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی گئی جو سلمان ایف رحمان کے بیٹے احمد شایان فضل الرحمان اور اے ایس ایف رحمان کے بیٹے احمد شہریار رحمان کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

ستمبر 2024 میں سی آئی ڈی نے منی لانڈرنگ پریوینشن ایکٹ 2012 کے تحت موٹی جھیل تھانے میں 17 مقدمات درج کیے۔

عدالت کے احکامات پر ملزمان کے اثاثے منجمد کر دیے گئے جن میں ڈھاکہ کے دوہر علاقے میں 2000 ڈیسمل زمین و عمارت، گلشن کے ’دی انوائے‘ بلڈنگ میں 6189 مربع فٹ اپارٹمنٹ اور گلشن روڈ 68/A پر 2713 مربع فٹ ٹرپلیکس فلیٹ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 600 سے 700 کروڑ ٹکہ مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں۔

سلمان ایف رحمان جو اس وقت زیرِ حراست ہیں، ان مقدمات میں باضابطہ طور پر گرفتار دکھائے گئے ہیں۔ سی آئی ڈی نے آٹم لوپ اپیرلز لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وصی الرحمان کو بھی جولائی 2025 میں گرفتار کیا تھا۔

محکمے کے مطابق تحقیقات مکمل کر کے فردِ جرم عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے، جو حالیہ برسوں میں پیچیدہ مالی جرائم کی تیز ترین تحقیقات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔

Watch Live Public News