ویب ڈیسک: علی امین گنڈاپور کو وزارت کے منصب سے کیوں ہٹایا گیا؟ بانی پی ٹی آئی کے اہم فیصلے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔
ذرائع کے مطابق 27 ستمبر کے جلسے نے علی امین گنڈاپور کی مقبولیت کا راز فاش کر دیا تھا۔جلسے میں کارکنان نے علی امین گنڈاپور کو آڑے ہاتھوں لیا اور شدید نعرے بازی کی۔جلسے سے دو روز قبل بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے اطراف کی آبادی کے تاثرات لئے، کارکنان نے علی امین گنڈاپور کی جلسے میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ۔
علی امین گنڈاپور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر علیمہ خان کے خلاف بیان بازی کرتے رہے۔ صوبے میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر بھی بانی پی ٹی آئی کو مکمل معلومات فراہم نہ کی جا سکیں۔ اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات کے بعد بھی علی امین بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو نظر انداز کرتے رہے۔
پانچ اگست اور 26 نومبر کے احتجاج میں بھی علی امین حکمت عملی واضح کرنے میں ناکام رہے۔علی امین گنڈا پور متعدد میٹنگز کے دوران بھی بشریٰ بی بی پر تنقید کرتے رہے۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے بھی علی امین گنڈاپور کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔دونوں رہنماؤں نے مؤقف اپنایا تھا کہ اسٹیج پر علی امین گنڈاپور کے ساتھ بیٹھنا انکی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کی چپقلش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علیمہ خان پر الزامات سے بشریٰ بی بی کی حمایت کی ناکام کوشش کی۔ کے پی کے صوبائی وزاء بھی علی امین کی غیر سنجیدگی اور ناقص حکمت عملی سے نالاں تھے۔عام انتخابات میں فرائض سر انجام دینے والے متنازعہ آر اوز کو بھی نوازا گیا ۔صوبے میں صوبائی وزراء کو نظر انداز کر کےافسران کی تقرریاں و تبادلے کیے گیے۔
محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور لوکل گورنمنٹ کے نمانئدے بھی علی امین کے سخت خلاف تھے۔صوبے کے انتظامی امور میں بدعنوانی اور کرپشن پر متعددملازمین نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا۔علی امین گنڈا پور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے 90 روز کے دعوے پر بھی عمل درآمد میں ناکام رہے ۔