ویب ڈیسک: امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیان نے سفارتی محاذ پر ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے چینی شہریوں کو "گنوار" قرار دیتے ہوئے نہ صرف سخت زبان استعمال کی بلکہ عالمی معاشی نظام پر بھی تنقید کی۔
انٹرویو کے دوران نائب صدر وینس نے کہا کہ"ہم ایک ایسی معیشت چلا رہے ہیں جو دنیا سے قرض لے کر ان کی تیار کردہ اشیاء خریدتی ہے۔ ہم چین کے گنواروں سے رقم ادھار لیتے ہیں تاکہ انہی کے بنائے گئے مصنوعات واپس خرید سکیں۔"
ان کے اس بیان پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے "جاہلانہ اور توہین آمیز" قرار دیا۔ چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ"ایسے تبصرے امریکا کی سیاسی قیادت کے رویے کی عکاسی کرتے ہیں، جو نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہیں۔"
چینی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی نائب صدر کے بیان پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ لاکھوں صارفین نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے نسل پرستانہ اور تکبر پر مبنی قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا: "یہی اصل چہرہ ہے — غرور، بدتمیزی اور نسلی تعصب۔"
جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا: " امریکا کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والا شخص، جسے خود شعور کی کمی ہے، دوسروں کو گنوار کہہ رہا ہے۔"
امریکا اور چین میں تجارتی کشیدگی برقرار
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں پہلے ہی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ چین پر عائد ٹیرف کو مزید بڑھا کر 125 فیصد کر دیا جائے گا، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ ٹرمپ نے 90 دن کے وقفے کے بعد نئے اقدامات کی بھی پیش گوئی کی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔