ویب ڈیسک: شیر افضل مروت نے کہا میں نے اس پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ بڑے فیصلے ہوتے دیکھے ہیں، پی ٹی آئی میں اختلافات مزید بڑھیں گے،سلمان اکرم راجہ جب تک منصب پر رہیں گے پارٹی میں کوئی اتحاد،اتفاق نہیں ہوسکتا۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کی چھٹی ہونے تک میری پارٹی میں واپسی ممکن نہیں ہوگی، اگر عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو پارٹی سے نہ نکالا توباقیوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ میں نے وہ باتیں پہلے کی جن کا مجھے علم تھا کہ وقوع پذیر ہوں گی، پی ٹی آئی پارٹی نے بانی کی قید کو ذاتی مفادات کا ذریعہ بنا لیا ہے ، پی ٹی آئی پارٹی کی باتیں جیسے کھل کر اب سامنے آرہی ہیں پہلے کبھی نہیں آئیں،پارٹی پر قبضے کی خواہش نے پی ٹی آئی لیڈران کو اندھا کررکھا ہے۔
پی ٹی آئی پارٹی پچھلے ڈیڑھ سال میں کوئی ہدف حاصل نہیں کرسکی، پی ٹی آئی میں اختلافات مزید بڑھیں گے،سلمان اکرم راجہ جب تک منصب پر رہیں گے پارٹی میں کوئی اتحاد،اتفاق نہیں ہوسکتا،شیر افضل
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ کا عمران خان سے ملاقاتوں کا اختیار جھوٹ ہے، لگتا ہے پارٹی کسی کی سفارش پر چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پہلا آپشن مذاکرات ہیں، اس وقت عمران خان کی فیملی پارٹی کی دوسری بڑی طاقت ہے۔المیہ ہے کہ ہم نے عوامی حمایت کا صحیح استعمال نہیں کیا۔
رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ ڈیڑھ ماہ بعد عمران خان پارٹی میں بڑی تبدیلیاں کریں گے، پارٹی میں تبدیلیاں ان کی مجبوری بن جائے گی۔
بیرسٹر علی ظفر نے مفت میں پارٹی کیلئے کیسز لڑے ہیں۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ حقائق عمران خان تک نہ پہنچیں، عمران خان اور میرا پارٹی میں رویہ جارحانہ رہا ہے۔ پارٹی کے سوشل میڈیا کا رویہ عمران خان سے دس قدم آگے ہے۔