(ویب ڈیسک) انڈونیشیا غزہ میں فوج تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 8,000 تک فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔
یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت مجوزہ بین الاقوامی امن فورس کی حمایت میں کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے اور وہ اس مشن کے لیے فوجی بھیجنے کا اعلان کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
انڈونیشی فوج کے سربراہ جنرل مارولی سِمَنجونتک کا کہنا ہے کہ غزہ اور دیگر تنازعات والے علاقوں میں ممکنہ تعیناتی کیلئے فوجیوں کی تربیت شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ عمل ابھی جاری ہے۔ ہم غزہ میں موجود رابطہ کاروں سے ہم آہنگی کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ ممکن ہے ایک بریگیڈ بھیجی جائے، جو تقریباً 5,000 سے 8,000 فوجیوں پر مشتمل ہو، لیکن ابھی کچھ بھی حتمی نہیں۔”
جنرل مارولی نے یہ واضح نہیں کیا کہ انڈونیشی فوج کن سرگرمیوں میں حصہ لے گی، تاہم انہوں نے بتایا کہ تربیت کا مرکز انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے کام ہیں۔
یہ فوجی دستے ٹرمپ کے مجوزہ “بین الاقوامی استحکامی فورس” (International Stabilisation Force) کا حصہ ہوں گے، جو ایک کثیر القومی امن مشن کے طور پر تصور کی جا رہی ہے۔ تاہم اس فورس کے اختیارات اور ساخت تاحال غیر واضح ہیں۔
اکتوبر 2025 تک، انڈونیشیا اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں 2,461 اہلکاروں کے ساتھ ساتواں بڑا حصہ ڈالنے والا ملک ہے۔
گزشتہ سال ستمبر میں، سابق فوجی جنرل پرابووو نے ابتدائی طور پر غزہ اور دیگر تنازعات والے علاقوں میں 20,000 فوجی بھیجنے کی پیشکش کی تھی۔