ویب ڈیسک: ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش لینے کے لئے اُس کا بھائی نوید اور دیگر رشتہ دار کراچی پہنچ گئے، ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ ورثا کی جانب سے تاحال کو کوئی قانونی کارروائی کرنے کا نہیں کہا گیا۔
ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ورثا میت کو لاہور لے جانا چاہتے ہیں، اںہوں نے حمیرا کی موت پر کسی شک و شبے کا فوری طور پر کوئی اظہار نہیں کیا۔
ڈیٹا اکٹھا کرلیا گیا اور ریفجرٹر ریفجریٹ سے کچھ اشیا ملیں جو کہ ایکسپائر ہوچکی ہیں، ان کے بجلی بلز بھی اکتوبر تک ادا کئے ہوئے ہیں، اُس کے بعد بجلی کی فراہمی معطل کردی گئی تھی۔
اکتوبر 2024 کے بعد سے خاتون کے رابطے منقطع تھے، جس عمارت میں حمیرا کا فلیٹ تھا وہاں ہر فلور پر دو فلیٹس ہیں، پڑوسی فروری 2025 میں بیرون ملک سے واپس آئے۔
ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے میڈیا کو بتایا کہ ممکنہ طور پر لاش کو تعفن اسی وجہ سے کسی کو محسوس نہیں ہوا، حمیرا خود فیملی سے رابطہ کرتی تھی، فیملی ان سے رابطے میں نہیں تھی۔
دوسری جانب اداکارہ کی لاش گھر سے برآمد ہونے کا معاملہ عدالت جاپہنچا جہاں شہری نے حمیرا اصغر کی موت کو قتل قرار دیا ہے، کراچی کے شہری شاہزیب سہیل نے واقعے کا مقدمہ درج کروانے کے لئیے درخواست دائر کردی۔
موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حمیرا اصغر علی کی موت طبعی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے، پولیس نے بھی واقعہ کو تشویش ناک بتایا ہے اس واقعہ کی وجہ سے عام لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے حمیرا اصغر علی ایک میڈیا بااثر خاتون تھی وقوعہ کی ویڈیو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا انکا قتل کیا گیا ہو۔