میواسپتال:انجیکشن کا ری ایکشن ،2 مریض جاں بحق،وزیراعلیٰ کا نوٹس

میواسپتال:انجیکشن کا ری ایکشن ،2 مریض جاں بحق،وزیراعلیٰ کا نوٹس
کیپشن: میواسپتال:مبینہ انجیکشن کے ری ایکشن سے جاں بحق مریضوں کی تعداد 2 ہوگئی

ویب ڈیسک: (سلمان چودھری)لاہور کے میو اسپتال میں انجیکشن کا ری ایکشن ایک اور زندگی لے گیا ہے، میو اسپتال میں انجیکشن سے متاثرہ دو افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں سے 36 سالہ دولت خان آج صبح دم توڑ گیا۔ مریض گزشتہ روز سے آئی سی یو میں زیر علاج تھا جس کی حالت انجیکشن کے ری ایکشن سے تشویشناک ہوئی تھی۔ واقعے کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوٹس لے لیا ہے۔ 

گزشتہ روز انکشاف ہوا کہ صوبائی دارالحکومت کے میو اسپتال میں پھیپھڑوں کے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے انجیکشن سے 18 مریضوں کو شدید ری ایکشن ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایک لڑکی جاں بحق اور اٹھارہ مریض متاثر ہوئے، جبکہ دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی تھی۔

ایم ایس میو اسپتال کے مطابق انجیکشن کا ری ایکشن چیسٹ سرجری وارڈ میں ہوا، جہاں ٹیکہ لگنے سے اکتیس سالہ مریضہ جاں بحق ہوگئی ہے۔

ایم ایس میواسپتال نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ نیوٹرو فارما انڈسٹری کے تیار کردہ انجکشن کے استعمال کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔

سی ای او میو اسپتال پروفیسر ہارون حامد نے بتایا کہ انتظامیہ نے انجیکشن کا استعمال فوری روک دیا ہے، واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی، جبکہ متاثرہ مریضوں کا بہترین علاج جاری ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا نوٹس:

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے میو ہسپتال میں انجکشن کے مریضوں پر ری ایکشن کی خبر کانوٹس لے لیا ہے۔

وزیراعلی مریم نواز شریف نے انجکشن کے مبینہ ری ایکشن سے مریضوں کے جاں بحق ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ 

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سیکرٹری ہیلتھ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔وزیراعلیٰ نےمریضوں کے  بہترین علاج  کا حکم بھی دیا ہے۔

اپنے بیان میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ انجکشن کے ری ایکشن کےواقعہ پر گہری تشویش ہے، غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے- 

سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کا میو ہسپتال کا دورہ:

دوسری جانب سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے میو ہسپتال کا دورہ کیا ہے۔ سیکرٹری صحت نے چیسٹ وارڈ کا دورہ کیا۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے سیکرٹری صحت کو معاملے پر بریفنگ دی گئی۔

میواسپتال نے خود سے یہ انجیکشن نہیں خریدا:ذرائع

ذرائع کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال نے خود سے یہ انجکشن نہیں خریدا۔ ڈی جی ہیلتھ پنجاب نے ٹیچنگ ہسپتالوں کے لیے یہ انجکشن خرید کر فراہم کیا۔ محکمہ سپیشلایزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے "ٹاپ اپ "کے طور پر یہ انجکشن میو ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں کو فراہم کیے۔

میو ہسپتال والے انجکشن کی ایکسپائری تاریخ مئی 2026 ہے ۔برینڈ ویکسا ایک گرام دیگر ہسپتالوں کو بھی سپلائی کیا گیا۔ جناح ہسپتال لاہور میں بھی اس انجکشن کی ایک کھیپ فراہم کی گئی ہے ۔جناح ہسپتال میں ابھی تک اس انجکشن کے ری ایکشن کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ جناح ہسپتال نے فی الحال اس انجکشن کے استعمال کو روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دو دن قبل میو اسپتال کا اچانک دورہ کیا تھا جہاں مریضوں اور تیمارداروں نے شکایات کے انبار لگا دیے تھے، ناقص سہولیات اور بدانتظامی پر وزیراعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کی سخت سرزنش کی تھی۔

دورے کے دوران مریم نواز نے ایم ایس میو اسپتال کو فوری عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسپتال میں عوام کو درپیش مسائل کسی صورت قابل قبول نہیں۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے دورہ میو اسپتال کے دوران برطرف سی ای او اور ایم ایس کی جگہ نئے افسران کی تعیناتی کردی گئی۔

اسپتال کے سی ای او پروفیسر احسن نعمان کی جگہ پروفیسر ہارون حامد کو اسپتال کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کیا گیا، پروفیسر ہارون حامد کو 3 ماہ کے کیلئے عارضی طور پر تعنیات کیا گیا۔

دوسری جانب گریڈ 20 کے پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر احتشام الحق کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے تبادلہ کرکے ڈاکٹر فیصل مسعود کی جگہ ایم ایس میو اسپتال تعینات کر دیا گیا۔

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں دوائی کی جانچ جاری ہے،خواجہ سلمان رفیق

خواجہ سلمان رفیق نے واقعے پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ میو اسپتال میں انجکشن لگنے سےمریضوں کو ری ایکشن کا واقعہ ہوا ۔ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں دوائی کی جانچ جاری ہے۔ انجیکشن کو کل صبح بھی میو اسپتال میں استعمال کیا گیا تھا۔صبح استعمال ہونے پر کسی کو ری ایکشن نہیں ہوا تھا۔رات کو جو انجکشن استعمال ہوا اس کے باعث ری ایکشن ہوا۔ انجکشن کا دیگر بھی کسی اسپتال میں ری ایکشن کا کیس نہیں آیا۔

خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ واقعہ انسانی غلطی ہوسکتی ہے جس پر تحقیقات جاری ہے۔رنگر لیکٹیٹ کو انجکشن کے ساتھ ملانے پر ری ایکشن کا شبہ ہے۔نرسوں کی غلطی ثابت ہوئی تو سخت کاروائی ہوگی۔آج واقعے کی مکمل انکوائری رپورٹ سامنے آجائے گی۔

Watch Live Public News