ویب ڈیسک: پی آئی اے کے ترجمان نے فضائی آپریشنز کے حوالے سے غلط اعداد و شمار اور گمراہ کن خبروں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ گزشتہ دو روز سے احتیاط اور ضبط کے ساتھ بے بنیاد بیان بازی سے گریز کر رہی تھی، تاہم نام نہاد انجینئرنگ سوسائٹی کی جانب سے جھوٹے اعلامیے اور میڈیا کوریج نے جان بوجھ کر عالمی سطح پر پی آئی اے کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) پاکستان میں فضائی حفاظت کی ذمہ دار ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق تمام ایئرلائنز بشمول پی آئی اے کی نگرانی کرتی ہے۔ ایئرلائنز کی پروازوں، پرزوں کے استعمال اور جہازوں کی فٹنس کے تمام فیصلے PCAA کی منظوری سے ہوتے ہیں، اور یہ عمل عالمی قوانین کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ مہم کی اصل وجہ کچھ افراد کے ذاتی مفادات ہیں جو نجکاری کے خلاف ہیں اور پی آئی اے کے منافع میں اضافے کو روکنا چاہتے ہیں۔ اس میں گمراہ کن بیانات کا مقصد پی آئی اے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اس کے نیٹ ورک کی توسیع میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
ترجمان کے مطابق، پی آئی اے کی حالیہ پروازیں کسی انجینئرنگ ہڑتال کی وجہ سے نہیں منسوخ ہوئیں، بلکہ یہ موسم یا دیگر آپریشنل وجوہات کی بنا پر ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز کی ونڈ اسکرین میں معمولی خرابی آئی تھی، مگر اس سے پرواز کی حفاظت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس خرابی کا درست علاج کیا گیا اور اس سے متعلق میڈیا میں غلط معلومات پھیلائی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ انتہائی تحمل سے کام لے رہی ہے اور ابھی تک کسی انجینئر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سیب کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی برخاستگی انتظامی وجوہات کی بنا پر کی گئی، اور ان کی بیان بازی کو قانون کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔