27ویں آئینی ترمیم، جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا

27ویں آئینی ترمیم، جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا

(ویب ڈیسک ) جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس پاکستان  کو لکھا گیا خط منظر عام پر آگیا ۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے  6 صفحات پر مشتمل خط 8 نومبر کو تحریر کیا گیا ۔چیف جسٹس نے چیف جسٹس کو خط میں کہا کہ بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں، واضح کریں آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی۔

  خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے،آپ اس ادارے کے اینڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے لیڈرشپ دکھانے کا تقاضا کرتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ  میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت صرف چھ سال کیلئے بنائی جانا تھی،اس وقت پرویز مشرف کا آمرانہ دور ختم ہوا تھا،اس وقت ملک میں کون سا آئینی خلا ہے؟ ، اس وقت آئینی عدالت کے قیام کی کیا ضرورت ہے؟ ،عدلیہ سے موثر مشاورت نہیں کی گئی۔

  خط میں کہا گیا کہ  امریکا، برطانیہ، جاپان ، آسٹریلیا میں ایک ہی اپیکس کورٹ ہوتی ہے، مضبوط جمہوری ممالک میں الگ آئینی عدالت کی ضرورت نہیں ہوتی،زیر التوا مقدمات میں سے 82 فیصد ضلع کچہری میں ہیں،التوا کو آئینی عدالت کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔

Watch Live Public News