ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2025 کا نوبیل امن انعام حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے۔ متعدد ممالک، بشمول پاکستان، نے انہیں اس عالمی اعزاز کے لیے نامزد کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس انعام کے لیے پرامید تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی، تاہم نوبیل کمیٹی نے اس سال کا امن انعام وینزویلا کی معروف جمہوری رہنما ماریا کورینا مچاڈو کو دینے کا فیصلہ کیا جو اپنے ملک میں آمریت کے خلاف جمہوریت، انسانی حقوق اور پرامن سیاسی جدوجہد کی علامت بن چکی ہیں۔
نوبیل امن انعام کے حالیہ اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس بات پر ردِعمل ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر یہ انعام نہیں دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگوں کا خاتمہ کریں گے اور انسانی جانیں بچائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن اسٹیون چونگ نے نوبیل کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ کمیٹی نے امن پر سیاست کو ترجیح دی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں کئی اہم سفارتی اقدامات کیے گئے جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں امن کے امکانات کو بڑھایا، تاہم نوبیل کمیٹی نے ایک بار پھر ان کی کوششوں کو تسلیم نہیں کیا۔
President Trump will continue making peace deals, ending wars, and saving lives.
— Steven Cheung (@StevenCheung47) October 10, 2025
He has the heart of a humanitarian, and there will never be anyone like him who can move mountains with the sheer force of his will.
The Nobel Committee proved they place politics over peace. https://t.co/dwCEWjE0GE
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، سینئر صحافی اور اینکر حامد میر نے کہا کہ ماریہ نے متعدد دھمکیوں کے باوجود اپنا ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
جمہوریت اُن لوگوں پر انحصار کرتی ہے جو خاموش رہنے سے انکار کرتے ہیں، جو شدید خطرات کے باوجود آگے بڑھنے کی جرأت دکھاتے ہیں، اور جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آزادی کو کبھی بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے ہمیشہ الفاظ، حوصلے اور عزم کے ساتھ بچانا اور قائم رکھنا چاہیے۔
Maria refused to leave her country despite many threats. Democracy depends on people who refuse to stay silent, who dare to step forward despite grave risk, and who remind us that freedom must never be taken for granted, but must always be defended – with words, with courage and… https://t.co/dyohoTnNiJ
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) October 10, 2025
صحافی اجمل جامی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے طنزاً لکھا کہ جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کہ سو جا، استاد ٹرمپ کے نام۔

واضح رہے کہ اس سال نوبیل امن انعام کے لیے 300 سے زائد افراد اور تنظیموں کو نامزد کیا گیا تھا۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ایک مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا تھا، لیکن وہ امن انعام حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے۔