امریکا کا میکسیکو پر پانی چوری کا الزام، پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی

امریکا کا میکسیکو پر پانی چوری کا الزام، پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی
کیپشن: امریکا کا میکسیکو پر پانی چوری کا الزام، پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو پر دریائے ریو گرانڈے سے پانی چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے محصولات اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میکسیکو 1944 میں طے پانے والے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی ریاست ٹیکساس کے کسان پانی کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔

حکام کے مطابق میکسیکو، امریکا کو دریائے ریو گرانڈے سے معاہدے کے تحت مطلوبہ 1.75 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ واجب الادا پانی کا صرف 30 فیصد فراہم کیا گیا ہے۔


صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک میکسیکو معاہدے کی خلاف ورزی ختم نہیں کرتا اور پانی کی فراہمی کو یقینی نہیں بناتا، تب تک اس پر تجارتی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ 1944 کے پانی کے معاہدے کے تحت امریکا اور میکسیکو دونوں کو اپنی سرحدی آبی وسائل کو مساوی طور پر استعمال اور بانٹنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی جانب سے معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے اور دریائے ریو گرانڈے سے میکسیکو کو پانی کی فراہمی برقرار رکھی ہے۔

میکسیکو کے صدر کا ردعمل:

دوسری جانب، میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا ہے کہ ملک گزشتہ تین برسوں سے شدید خشک سالی کا شکار ہے، اور حکومت مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میکسیکو امریکا کے ساتھ معاہدے کا احترام کرتا ہے، لیکن موجودہ حالات غیر معمولی ہیں۔

Watch Live Public News